برطانیہ کے انٹیلی جنس سربراہ کا انتباہ
برطانیہ کے انٹیلی جنس سربراہ کا انتباہ — چین اور روس سے برتری برقرار رکھنے کا وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ لندن: برطانیہ کے خفیہ ادارے سِیکریٹ انٹیلیجنس سروس (MI6) کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ عالمی طاقتوں کے درمیان جاری خفیہ اور تکنیکی مقابلہ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے چین اور روس پر اپنی برتری برقرار رکھنا تیزی سے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ انٹیلی جنس چیف کے مطابق عالمی سکیورٹی کا ماحول غیر معمولی رفتار سے تبدیل ہو رہا ہے، جس میں سائبر جنگ، مصنوعی ذہانت اور جدید نگرانی کی ٹیکنالوجی فیصلہ کن کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ رفتار سے دفاعی اور ٹیکنالوجی سرمایہ کاری میں اضافہ نہ کیا گیا تو اسٹریٹجک برتری کا “ونڈو آف اپرچونٹی” مزید سکڑ جائے گا۔ انہوں نے خاص طور پر چین اور روس کی بڑھتی ہوئی انٹیلی جنس سرگرمیوں، سائبر صلاحیتوں اور عالمی اثر و رسوخ کی توسیع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ممالک کو اب روایتی سکیورٹی سوچ سے آگے بڑھ کر ایک زیادہ تیز اور مربوط حکمتِ عملی اختیار کرنا ہو گی۔ ان کے مطابق آنے والے برسوں میں اصل مقابلہ میدانِ جنگ کے بجائے ڈیٹا، مصنوعی ذہانت، خلائی نگرانی اور سائبر اسپیس میں ہوگا، جہاں فیصلہ کن برتری چند لمحوں میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی طاقتوں کے درمیان مقابلہ اب سرد جنگ کے بعد کے دور سے نکل کر ایک زیادہ پیچیدہ اور تیز رفتار اسٹریٹجک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔


