بدلتا امریکہ: نفرت کو زیادہ محنت نہیں کرنا پڑتی آفاق فاروقی۔
بدلتا امریکہ: نفرت کو زیادہ محنت نہیں کرنا پڑتی
آفاق فاروقی۔
ایک زمانہ تھا جب امریکہ کو دیکھ کر دنیا حیران ہوتی تھی۔ لوگ کہتے تھے کہ یہ وہ ملک ہے جہاں آدمی اپنے کتے کو بھی آزادی دے دیتا ہے، انسان کو تو خیر کیا ہی دے گا۔ پھر وہ دن آیا جب دو بلند عمارتیں دھوئیں، آگ اور چیخوں میں زمین بوس ہو گئیں، پورا آسمان راکھ سے بھر گیا، ہزاروں لاشیں گریں اور دنیا لرز گئی۔ مسلمانوں نے اُس دن خوف دیکھا، مسجدوں میں خاموشی تھی، داڑھیوں میں لرزش تھی اور ماؤں نے اپنے بچوں سے کہا کہ آہستہ بولا کرو، مگر حیرت یہ ہوئی کہ امریکہ نے اجتماعی پاگل پن کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ہر مسلمان کو پکڑ کر دیوار سے نہیں لگایا گیا، ہر حجاب والی عورت کو گلی میں نہیں گھسیٹا گیا۔ معاشرے میں درد تھا، غصہ تھا، مگر ایک تہذیبی ضبط بھی تھا۔ یہی وہ چیز تھی جس نے امریکہ کو امریکہ بنایا تھا۔ پھر جنوبی ایشیا میں عبادت گاہوں پر حملے ہوئے، تہواروں کے دن خون بہا، عبادت کرنے والے مارے گئے، دنیا نے خوف دیکھا مگر عام امریکی معاشرے میں پھر بھی وہ اجتماعی انتقام پیدا نہ ہوا جو اکثر مشرقی معاشروں میں ایک افواہ پر پیدا ہو جاتا ہے۔ پھر وہ شخص پکڑا گیا جس کا نام برسوں تک خوف کی علامت بنا رہا، وہ ایک مسلمان ملک سے ملا، دنیا بھر میں سوال اٹھے کہ اسے کس نے چھپایا، کیوں چھپایا، کیسے چھپایا، مگر اس کے باوجود امریکہ کی گلیوں میں مسلمان شکار نہیں بنے۔ اس ملک نے اپنے آپ کو ایک حد تک قابو میں رکھا۔ لیکن پھر ایک دوسرا مرحلہ شروع ہوا، اور یہ مرحلہ زیادہ خطرناک تھا کیونکہ اس میں بارود نہیں تھا بلکہ بےحسی، نمائشی دینداری اور سماجی ناسمجھی تھی۔ کچھ لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ برداشت کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ چنانچہ کہیں عبادت کو تماشہ بنایا گیا، کہیں شناخت کو ضرورت سے زیادہ نمایاں کیا گیا اور کہیں الگ دائرے بنانے کی سوچ نے فاصلے بڑھائے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں معاشرے ردعمل پیدا کرتے ہیں، سیاست خوف کو ووٹ میں بدلتی ہے اور شناختیں بحث کا مرکز بن جاتی ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ آج بھی بہت سے لوگ ماضی کی جنگیں لڑ رہے ہیں، جبکہ نئی نسل مستقبل کے خدشات کے ساتھ بڑی ہو رہی ہے۔


