Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبین الاقوامی خبریںای بیس ایندھن کے بعد ای تیس کی سمت پیش قدمی، نئی...

ٹرینڈنگ

ای بیس ایندھن کے بعد ای تیس کی سمت پیش قدمی، نئی ایندھن پالیسیوں نے گاڑیوں کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر دیے

ای بیس ایندھن کے بعد ای تیس کی سمت پیش قدمی، نئی ایندھن پالیسیوں نے گاڑیوں کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر دیے

نئی دہلی: ملک میں پیٹرول میں ایتھنول کی ملاوٹ کو عام کرنے کے بعد اب ایندھن کے معیار کو مزید آگے بڑھانے کے اشاروں نے گاڑیوں کی خریداری اور مستقبل کی ٹیکنالوجی پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

حالیہ صورتحال میں ای بیس یعنی بیس فیصد ایتھنول ملا پیٹرول اب عام ہو چکا ہے، تاہم حکومتی سطح پر ای بائیس، ای پچیس، ای ستائیس اور ای تیس جیسے نئے معیارات پر غور اور نوٹیفکیشن نے صارفین اور صنعت کاروں دونوں کو نئی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر مستقبل میں ایتھنول کی شرح مزید بڑھائی جاتی ہے تو اس کے اثرات پرانی گاڑیوں کی کارکردگی، انجن کی پائیداری اور ایندھن کی افادیت پر پڑ سکتے ہیں، جس کے باعث آٹو موبائل مارکیٹ میں تکنیکی تبدیلیاں ناگزیر ہو جائیں گی۔

توانائی پالیسی سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کا بنیادی مقصد درآمدی خام تیل پر انحصار کم کرنا اور مقامی زرعی وسائل سے تیار ہونے والے ایتھنول کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔ اس سے نہ صرف توانائی تحفظ میں اضافہ ہوگا بلکہ زرعی معیشت کو بھی تقویت ملے گی۔

دوسری جانب بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایندھن میں مسلسل تبدیلیوں کا سلسلہ جاری رہا تو صارفین کو نئی گاڑیاں خریدنے کے فیصلے میں زیادہ احتیاط کرنا پڑ سکتی ہے، خاص طور پر انجن کی مطابقت اور مستقبل کی ایندھن پالیسیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے۔

ماہرین کے مطابق اب بحث صرف ایندھن کی قیمت تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ سوال بھی اہم ہوتا جا رہا ہے کہ آنے والے برسوں میں کون سی گاڑیاں اس بدلتے ہوئے ایندھن نظام کے ساتھ بہتر طور پر چل سکیں گی

مزید پڑھیں