Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومامریکہایٹمی خزانے کی خفیہ تقسیم؟ امریکی حکومت نے نیا کارنامہ کردیا

ٹرینڈنگ

ایٹمی خزانے کی خفیہ تقسیم؟ امریکی حکومت نے نیا کارنامہ کردیا

ایٹمی خزانے کی خفیہ تقسیم؟ امریکی حکومت نے نیا کارنامہ کردیا

واشنگٹن: امریکہ میں ایٹمی توانائی کے شعبے سے متعلق ایک ایسا فیصلہ سامنے آیا ہے جس نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ امریکی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ختم کیے گئے ایٹمی ہتھیاروں سے حاصل ہونے والا پلوٹونیم چند منتخب نجی اداروں کو دیا جائے گا تاکہ وہ اسے توانائی پیدا کرنے والے نئے ایٹمی منصوبوں میں استعمال کر سکیں۔ اس فیصلے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایٹمی پالیسی کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا مقصد ایٹمی توانائی کے منصوبوں کی راہ میں موجود سرکاری رکاوٹوں کو کم کرنا اور نئے منصوبوں کی رفتار تیز کرنا بتایا جا رہا ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت صرف دروازے کھولنے تک محدود نہیں رہی بلکہ اب خود یہ بھی طے کرنے لگی ہے کہ فائدہ کس کو پہنچے گا۔

مبصرین کے مطابق ختم کیے گئے جنگی ہتھیاروں سے حاصل ہونے والا یہ مواد انتہائی قیمتی سمجھا جاتا ہے اور اس کی تقسیم نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ ناقد حلقوں کا مؤقف ہے کہ اگر حکومت چند مخصوص اداروں کو ایسے وسائل فراہم کرے گی تو منصفانہ مقابلے کی فضا متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ حامیوں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے امریکہ کی ایٹمی صنعت کو نئی زندگی ملے گی اور ملک توانائی کے میدان میں مزید خود کفیل بن سکے گا۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں توانائی کے بحران، بڑھتی ہوئی ضروریات اور عالمی مسابقت کے باعث ایٹمی توانائی کو دوبارہ اہمیت حاصل ہو رہی ہے۔ تاہم ایک سوال بدستور گونج رہا ہے: کیا حکومت صرف رکاوٹیں ہٹا رہی ہے، یا پھر خاموشی سے مستقبل کے فاتحین کا انتخاب بھی کر رہی ہے

مزید پڑھیں