ایران کے پاس افزودہ یورینیم، جوہری مذاکرات میں سب سے مضبوط دباؤ کا ذریعہ قرار
ایران کے پاس افزودہ یورینیم، جوہری مذاکرات میں سب سے مضبوط دباؤ کا ذریعہ قرار
ایران اور امریکا کے درمیان جاری بات چیت میں ممکنہ جنگ بندی میں توسیع اور جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان مذاکرات میں سب سے بڑا تنازع ایران کے پاس موجود وہ افزودہ یورینیم قرار دیا جا رہا ہے جو اب بھی عالمی سطح پر شدید تشویش کا باعث ہے۔
امریکی مؤقف کے مطابق ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل نہیں ہونی چاہیے۔ تاہم خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگرچہ جون میں اسرائیل اور امریکا کے حملوں میں ایران کے یورینیم افزودگی کے کئی مراکز کو شدید نقصان پہنچا، لیکن پہلے سے جمع کیا گیا افزودہ مواد بڑی حد تک محفوظ رہ گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہی ذخیرہ آئندہ مذاکرات میں ایران کا سب سے اہم “دباؤ کا ہتھیار” سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے وہ مذاکراتی عمل میں اپنی پوزیشن مضبوط رکھ سکتا ہے۔
دوسری جانب سابق امریکی صدر Donald Trump نے ایک سوشل میڈیا بیان میں کہا ہے کہ ایران کو اس بات پر آمادہ کیا جانا چاہیے کہ زیرِ زمین موجود افزودہ یورینیم کو نکال کر اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کی نگرانی میں تلف کیا جائے، تاکہ مستقبل میں کسی بھی جوہری خطرے کا راستہ بند کیا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کو ایک نئے اور حساس مرحلے میں داخل کر رہی ہے، جہاں جنگ بندی، سفارت کاری اور جوہری سلامتی ایک ہی میز پر ٹکرا رہی ہیں


