ایران کے ایٹمی مؤقف نے دنیا کو ہلا دیا: خام تیل دوبارہ مہنگا، عالمی منڈی “ریڈ زون” کے دہانے پر
ایران کے ایٹمی مؤقف نے دنیا کو ہلا دیا: خام تیل دوبارہ مہنگا، عالمی منڈی “ریڈ زون” کے دہانے پر
مشرقِ وسطیٰ میں جاری سفارتی کشیدگی نے ایک بار پھر عالمی توانائی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایران کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے مبینہ طور پر یہ فیصلہ سامنے آنے کے بعد کہ ملک میں موجود “نزدیک بہ ہتھیار درجے” کی افزودہ یورینیم بیرونِ ملک نہیں بھیجی جائے گی، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں نے دوبارہ تیزی پکڑ لی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ہدایت دی ہے کہ ایران اپنی افزودہ یورینیم اپنے ہی کنٹرول میں رکھے گا۔ یہ مؤقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دعویٰ کر رہے تھے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات “آخری مراحل” میں داخل ہو چکے ہیں۔
لیکن تہران کے اس سخت مؤقف نے اچانک یہ خدشات بڑھا دیے ہیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ تصفیہ شاید اتنا قریب نہیں جتنا واشنگٹن ظاہر کر رہا تھا۔
اسی غیر یقینی صورتحال کے باعث جمعے کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں دوبارہ اوپر چلی گئیں۔ برینٹ کروڈ 104 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی تقریباً 98 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔
دوسری جانب انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی اور عالمی ذخائر کم ہوتے گئے تو آئل مارکیٹ جلد “ریڈ زون” میں داخل ہو سکتی ہے۔ یہ اصطلاح عموماً اُس خطرناک مرحلے کے لیے استعمال ہوتی ہے جہاں سپلائی میں معمولی خلل بھی عالمی معیشت کو شدید جھٹکا دے سکتا ہے۔
تجزیہ: اصل لڑائی صرف یورینیم کی نہیں، اعتماد کی ہے
اس پوری صورتحال میں سب سے اہم نکتہ صرف یورینیم نہیں بلکہ “اعتماد” ہے۔ امریکہ اور مغربی طاقتیں برسوں سے یہ چاہتی رہی ہیں کہ ایران اپنی حساس افزودہ یورینیم یا تو بیرونِ ملک منتقل کرے یا اس کی مقدار محدود کرے، تاکہ تہران کے ممکنہ ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت کم ہو۔
مگر ایران ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام دفاعی اور پُرامن مقاصد کے لیے ہے، اور وہ اپنی اسٹریٹجک صلاحیت کسی بیرونی طاقت کے حوالے نہیں کرے گا۔
اب اگر واقعی ایرانی قیادت نے افزودہ یورینیم ملک سے باہر نہ بھیجنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے، تو یہ مذاکرات کے لیے ایک بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔ واشنگٹن اسے ممکنہ “ریڈ لائن” کے طور پر دیکھ سکتا ہے۔
عالمی اثرات: پیٹرول، مہنگائی اور نئی جغرافیائی جنگ
اس بحران کا سب سے فوری اثر دنیا بھر میں پیٹرول اور توانائی کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔ اگر خلیج میں کشیدگی مزید بڑھی، یا ایران پر نئی پابندیاں لگیں، یا آبنائے ہرمز کے اردگرد خطرات بڑھے، تو عالمی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔
یاد رہے کہ دنیا کی بڑی آئل سپلائی اسی خطے سے گزرتی ہے۔ اسی لیے ایران اور امریکہ کے درمیان ہر سفارتی جملہ، ہر دھمکی، اور ہر ایٹمی اشارہ براہِ راست عالمی معیشت کو متاثر کرتا ہے۔
فی الحال دنیا ایک عجیب تضاد کے درمیان کھڑی ہے:
ایک طرف واشنگٹن “امن معاہدے کے قریب” ہونے کی بات کر رہا ہے، جبکہ دوسری طرف تہران ایسے فیصلے کرتا دکھائی دے رہا ہے جو یہ اشارہ دیتے ہیں کہ اصل اعتماد کا بحران ابھی ختم نہیں ہوا، اور یہی وہ غیر یقینی ہے جو ریاستوں، سرمایہ کاروں اور عالمی منڈیوں کو مسلسل بے چین رکھے ہوئے ہے


