ایران کا جوہری ذخیرہ ملک سے باہر بھیجنے سے انکار — خامنہ ای کا سخت مؤقف، مشرقِ وسطیٰ میں خطرے کی نئی لہر
ایران کا جوہری ذخیرہ ملک سے باہر بھیجنے سے انکار — خامنہ ای کا سخت مؤقف، مشرقِ وسطیٰ میں خطرے کی نئی لہر”واشنگٹن / تہران:ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی طاقتوں اور تہران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جب باخبر ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی قیادت نے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ملک سے باہر منتقل کرنے سے دو ٹوک انکار کر دیا ہےذرائع کے مطابق ایران کی اعلیٰ قیادت اور اسٹیبلشمنٹ کے اندر اس بات پر وسیع اتفاق پایا جاتا ہے کہ یورینیم کا موجودہ ذخیرہ کسی بھی صورت ملک سے باہر نہیں جانا چاہیے۔ موقف کے مطابق ایسا اقدام ایران کو مستقبل میں ممکنہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے سامنے مزید کمزور بنا سکتاہےفیصلہ کن اختیار سپریم لیڈر کے پاسرپورٹس کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی رائے اس معاملے میں فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے، اور اسی کے مطابق ریاستی پالیسی تشکیل دی جا رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مؤقف اب ایک مضبوط ریاستی اتفاق رائے کی شکل اختیار کر چکا ہےمغربی خدشات اور جوہری تنازعدوسری جانب امریکہ اور اسرائیل سمیت مغربی ممالک طویل عرصے سے ایران پر یہ الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان خدشات کی بنیاد ایران کا یورینیم کو ساٹھ فیصد تک افزودہ کرنا بتایا جاتا ہے، جو شہری استعمال سے کہیں زیادہ اور ہتھیار بنانے کی سطح کے قریب سمجھا جاتا ہےتاہم ایران مسلسل اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے اور اس کا جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیںاسرائیل کی سخت دھمکیاسرائیل کے وزیرِاعظم بینجمن نتن یاہو نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ اس صورتحال کو اس وقت تک ختم نہیں سمجھیں گے جب تک ایران سے افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ختم نہ ہو جائے، تہران اپنی علاقائی مسلح حمایت بند نہ کرے، اور اس کے میزائل پروگرام کو محدود نہ کیا جائےخاموش سفارت کاری، بڑھتا دباؤواشنگٹن اور تہران دونوں کی جانب سے اس تازہ پیش رفت پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جس نے صورتحال کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ خاموشی کسی بھی ممکنہ بڑے سفارتی یا عسکری بحران کی پیش خیمہ ہو سکتی ہےخطہ ایک بار پھر دہانے پرتجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یورینیم کے ذخیرے پر یہ سخت مؤقف کسی بھی ممکنہ معاہدے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی شدید کشیدگی، پراکسی تنازعات اور خطرناک سفارتی دباؤ کا شکار ہےاب عالمی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا آنے والے دن کسی سفارتی پیش رفت کی طرف جائیں گے یا خطہ ایک اور بڑے بحران کی جانب بڑھ جائے گا


