Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبریکنگ نیوزایران و امریکہ مذاکرات میں آخری لمحوں کی کشمکش: پاکستان کی ثالثی،...

ٹرینڈنگ

ایران و امریکہ مذاکرات میں آخری لمحوں کی کشمکش: پاکستان کی ثالثی، اعتماد اور طاقت کے نئے سوال

ایران و امریکہ مذاکرات میں آخری لمحوں کی کشمکش: پاکستان کی ثالثی، اعتماد اور طاقت کے نئے سوال
دنیا کی نظریں آج ایک بار پھر ایران اور امریکہ کے ممکنہ معاہدے پر مرکوز رہیں، جہاں پورے دن یہ تاثر غالب رہا کہ کسی بھی وقت ایک حتمی معاہدے پر دستخط ہو سکتے ہیں اور فیصلہ اب صرف چند گھنٹوں یا ایک دن کی دوری پر رہ گیا ہے، لیکن اسی امید کے ساتھ ساتھ بے یقینی بھی اتنی ہی گہری رہی۔
معلومات کے مطابق پاکستان کے فیلڈ مارشل کا مجوزہ دورۂ ایران، جو اس سفارتی عمل کا حصہ سمجھا جا رہا تھا، اچانک منسوخ ہو گیا۔ اس پیش رفت کو بعض حلقے مذاکراتی عمل میں ایک غیر معمولی رکاوٹ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
اسی دوران پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی ایران کے دوسرے دورے پر موجود ہیں، جہاں وہ گزشتہ چند دنوں میں اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ ان ملاقاتوں میں ایرانی قیادت کے اہم حلقے، سلامتی ادارے اور سفارتی شخصیات شامل بتائی جاتی ہیں، تاہم باخبر ذرائع کے مطابق ابھی تک کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔
اطلاعات کے مطابق ایران کی اعلیٰ قیادت، جن میں سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا سخت مؤقف بھی شامل بتایا جاتا ہے، اس بات پر قائم ہیں کہ افزودہ یورینیم کسی بیرونی فریم ورک کے تحت ملک سے باہر منتقل نہیں کی جائے گی۔ یہی نکتہ مذاکرات میں بنیادی رکاوٹ سمجھا جا رہا ہے۔
پاکستان کی ثالثی کا کردار اس وقت ایک نازک امتحان سے گزر رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ثالثی موجود ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا یہ ثالثی اعتماد پیدا کرنے میں کامیاب ہو رہی ہے یا نہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اگر فریقین کے درمیان بنیادی اعتماد کمزور ہو تو محض سفارتی رابطے نتائج نہیں دے سکتے۔
یہی وجہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں یہ بحث بھی تیزی سے ابھر رہی ہے کہ کیا ثالث فریقین کی زبان اور حساسیت کو مکمل طور پر سمجھ رہا ہے، یا پھر مذاکراتی فریم ورک اپنی حدوں تک پہنچ چکا ہے۔ اور اس پس منظر میں خصوصاً محسن نقوی کی صلاحیتوں پر انگلیاں اٹھنا شروع ہو چکی ہیں، جن پر بعض پاکستانی سیاسی و سفارتی حلقے پہلے ہی کچھ زیادہ پُرامید نہیں تھے، اور جن کا کہنا تھا کہ ریاستی پسند و ناپسند کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے کہیں ملک کے وقار، ساکھ اور سفارتی اثر و رسوخ کے فروغ کا ایک سنہری موقع ضائع نہ ہو جائے۔
اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو توانائی کی قیمتیں، عالمی منڈیاں اور خطے کی سلامتی مزید غیر مستحکم ہو سکتی ہے۔ اسی لیے یہ صورتحال محض سفارتی نہیں بلکہ عالمی اقتصادی اور اسٹریٹجک توازن کا مسئلہ بن چکی ہے۔
امریکہ پر دباؤ بڑھتا دکھائی دیتا ہے کہ وہ فیصلہ کن اقدام کرے، جبکہ ایران اپنے مؤقف پر سختی سے قائم ہے۔ ایسے میں ہر گھنٹہ اہم بنتا جا رہا ہے۔
یہ پورا بحران صرف معاہدے یا اختلاف کا نہیں بلکہ اعتماد کی سیاست کا ہے۔ ثالثی تبھی کامیاب ہو سکتی ہے جب فریقین نہ صرف شرائط پر بلکہ نیت اور ضمانت پر بھی یقین رکھیں۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اس نازک خلا کو پُر کر پائے گا، یا پھر یہ عمل کسی نئے سفارتی راستے یا نئے ثالث کی طرف بڑھنے پر مجبور ہوگا؟
جمعرات کی ختم ہوتی یہ رات اور جمعہ کے نئے سورج کے طلوع پر صورتحال وہی ہے جو عالمی سیاست میں اکثر آخری لمحات میں ہوتی ہے، امید بھی زندہ ہے اور خطرہ بھی۔

مزید پڑھیں