ایران معاہدہ، عالمی کشیدگی اور بھارت امریکا معاشی قربت ،اہم سفارتی فیصلے
دن کا آغاز عالمی سیاست اور معیشت میں کئی اہم اور حساس پیش رفتوں کے ساتھ ہوا ہے، جہاں ایک طرف ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر حتمی فیصلے کی بحث جاری ہے، وہیں دوسری جانب بڑی طاقتوں کے درمیان سفارتی اور معاشی تعلقات نئے مرحلے میں داخل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر غور اور حتمی فیصلے کی تیاری نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ معاہدہ اگر طے پاتا ہے تو خطے میں جاری کشیدگی میں کمی اور توانائی کی عالمی منڈیوں میں استحکام کا سبب بن سکتا ہے، تاہم بعض معاملات اب بھی اختلاف کا شکار ہیں اسی سفارتی فضا کے ساتھ ساتھ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشمکش میں توانائی کے اہم راستے اور علاقائی سکیورٹی معاملات بھی مرکزی حیثیت اختیار کیے ہوئے ہیں، جس کے باعث عالمی منڈیاں اور تیل کی قیمتیں مسلسل غیر یقینی صورتحال سے گزر رہی ہیں دوسری جانب معاشی محاذ پر امریکہ اور بھارت کے درمیان تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی سفیر سرگیو گور کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ تکمیل کے قریب ہے اور صرف چند نکات باقی ہیں، جسے عالمی ٹیکنالوجی اور تجارتی ڈھانچے میں ایک بڑی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ماہرین کے مطابق یہ تمام پیش رفت ایک ہی وقت میں عالمی سیاست کے اس نازک دور کی عکاسی کرتی ہیں جہاں جنگ، سفارت کاری اور معاشی مفادات ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، اور کسی بھی فیصلے کے اثرات عالمی سطح پر فوری طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں


