ایران جنگ کے باعث امریکہ کا بڑا فیصلہ: تائیوان کے لیے 14 ارب ڈالر کے اسلحہ معاہدے پر عارضی “پاز
امریکہ نے کینیڈا کے ساتھ دفاعی مذاکرات معطل کر دیے، دفاعی تیاریوں پر شدید تحفظات
امریکہ نے کینیڈا کے ساتھ قائم اہم دفاعی مشاورتی فورم “مستقل مشترکہ دفاعی بورڈ” میں اپنی شرکت عارضی طور پر معطل کر دی ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات میں تناؤ بڑھ گیا ہے۔
امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کے مطابق یہ فیصلہ اس خدشے کے بعد کیا گیا ہے کہ کینیڈا دفاعی اخراجات بڑھانے اور ایف-35 لڑاکا طیاروں کی خریداری کے جائزے کو مکمل کرنے میں سست روی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔
امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ شمالی امریکہ کے مشترکہ دفاع کے لیے کینیڈا کو اپنی فوجی تیاری اور دفاعی بجٹ میں نمایاں اضافہ کرنا ہوگا تاکہ وہ ایک “قابلِ اعتماد شراکت دار” بن سکے۔
کینیڈا کا ردعمل
کینیڈین قیادت نے اس اقدام کو کم اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ “شمالی امریکہ ایئر ڈیفنس کمانڈ” (نورڈ) کا دفاعی تعاون بدستور جاری ہے اور اس معاملے سے مجموعی سیکیورٹی شراکت متاثر نہیں ہوگی۔
تجزیہ
یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ اپنے قریبی اتحادیوں پر بھی دفاعی اخراجات بڑھانے کے لیے دباؤ بڑھا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر سیکیورٹی خطرات اور فوجی مصروفیات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اگر یہ کشیدگی بڑھتی ہے تو شمالی امریکہ کے دفاعی ڈھانچے میں پالیسی اختلافات مزید نمایاں ہو سکتے ہیں، تاہم فوری طور پر مکمل تعاون ختم ہونے کا کوئی اشارہ نہیں


