Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومامریکہایران جنگ پر واشنگٹن میں ہلچل: ٹرمپ کو اپنی ہی جماعت میں...

ٹرینڈنگ

ایران جنگ پر واشنگٹن میں ہلچل: ٹرمپ کو اپنی ہی جماعت میں بغاوت کا سامنا، ریپبلکن قیادت پسپا

ایران جنگ پر واشنگٹن میں ہلچل: ٹرمپ کو اپنی ہی جماعت میں بغاوت کا سامنا، ریپبلکن قیادت پسپا

واشنگٹن میں ایران کے معاملے پر ایک غیرمعمولی سیاسی ڈرامہ اُس وقت سامنے آیا جب امریکی ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکن قیادت نے آخری لمحے پر وہ ووٹنگ ہی منسوخ کر دی جس کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو محدود کرنا تھا۔
فیصلہ اچانک نہیں تھا۔ اصل وجہ یہ تھی کہ ریپبلکن قیادت کو اندازہ ہو چکا تھا کہ پارٹی کے اندر دراڑیں خطرناک حد تک گہری ہو رہی ہیں اور اگر ووٹنگ ہوئی تو کئی ریپبلکن اراکین اپنی ہی قیادت کے خلاف جا سکتے ہیں۔
یہ قرارداد بظاہر ایک آئینی اور پارلیمانی اقدام تھا، مگر حقیقت میں یہ ٹرمپ کی ایران پالیسی کے خلاف ایک سیاسی ریفرنڈم بنتا جا رہا تھا۔ امریکی کانگریس کے بعض اراکین کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی وسیع فوجی مہم کا فیصلہ صرف وائٹ ہاؤس نہیں کر سکتا، بلکہ اس کے لیے کانگریس کی منظوری ضروری ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بار صرف ڈیموکریٹس ہی نہیں بلکہ کئی ریپبلکن ارکان بھی صدر ٹرمپ کے اختیار کو محدود کرنے کے حق میں کھڑے دکھائی دیے۔ تھامس میسی، برائن فٹزپیٹرک، وارن ڈیوڈسن اور ٹام بیرٹ پہلے ہی اس قسم کی قراردادوں کی حمایت کر چکے ہیں۔
ادھر جیرڈ گولڈن جیسے ڈیموکریٹ رکن، جو ماضی میں ایران سے متعلق وار پاورز قراردادوں کے خلاف ووٹ دیتے رہے تھے، اس بار اپنا مؤقف بدلنے والے تھے۔ یہی تبدیلی ریپبلکن قیادت کے لیے خطرے کی گھنٹی بن گئی۔
واشنگٹن کے سیاسی حلقوں میں اس پیش رفت کو صرف ایک پارلیمانی تکنیکی معاملہ نہیں بلکہ ٹرمپ کی جنگی حکمتِ عملی پر بڑھتے ہوئے عدم اعتماد کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی شدید کشیدگی، پراکسی جنگوں اور ایران-امریکہ تناؤ کے دہانے پر کھڑا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس واقعے نے دو حقیقتیں واضح کر دی ہیں۔ پہلی یہ کہ ایران کے خلاف ممکنہ طویل جنگ کے معاملے پر امریکی سیاسی اشرافیہ مکمل طور پر متحد نہیں۔ دوسری یہ کہ ٹرمپ اگرچہ ریپبلکن پارٹی پر مضبوط گرفت رکھتے ہیں، مگر جنگ جیسے حساس معاملے پر اُن کی اپنی جماعت کے اندر بھی بےچینی بڑھ رہی ہے۔
اگر یہ قرارداد ووٹنگ تک پہنچ جاتی اور کامیاب ہو جاتی تو یہ ایران کے معاملے پر ٹرمپ کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا ہوتا۔ اگرچہ صدر کے پاس اسے ویٹو کرنے کا اختیار موجود تھا، لیکن علامتی طور پر یہ پیغام پوری دنیا کو جاتا کہ امریکی کانگریس خود اپنی حکومت کی جنگی پالیسی پر تقسیم ہو چکی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ریپبلکن قیادت نے شکست کا خطرہ مول لینے کے بجائے ووٹنگ ہی روک دی — اور یوں واشنگٹن میں ایک ممکنہ سیاسی بغاوت وقتی طور پر ٹل گئی، مگر ایران کے مسئلے پر امریکی داخلی تقسیم اب پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہو چکی ہے

مزید پڑھیں