Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبین الاقوامی خبریںانسانی جسم کی نشوونما جانوروں کے مقابلے میں سست کیوں ہوتی ہے؟...

ٹرینڈنگ

انسانی جسم کی نشوونما جانوروں کے مقابلے میں سست کیوں ہوتی ہے؟ نئی سائنسی وضاحت سامنے آگئی

سائنس دانوں کے مطابق انسانی بچوں کی نشوونما دوسرے جانوروں کے مقابلے میں نمایاں طور پر سست ہونے کی بنیادی وجہ دماغ کی غیر معمولی پیچیدگی اور طویل مدتی سیکھنے کا عمل ہے۔ تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسان پیدائش کے بعد کئی سال تک مکمل طور پر خودمختار نہیں ہوتا، جبکہ زیادہ تر جانور نسبتاً مختصر وقت میں چلنے، شکار کرنے اور زندہ رہنے کے بنیادی ہنر سیکھ لیتے ہیں۔ اس فرق کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ انسانی دماغ کو مکمل طور پر تیار ہونے میں زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق انسانی دماغ پیدائش کے بعد بھی طویل عرصے تک نشوونما پاتا رہتا ہے، اور اسی دوران نیورونز کے درمیان روابط مضبوط ہوتے ہیں۔ یہ عمل انسان کو پیچیدہ سوچ، زبان، سماجی رویے اور جدید مہارتیں سیکھنے کے قابل بناتا ہے، لیکن اس کے بدلے جسمانی نشوونما کی رفتار نسبتاً کم ہو جاتی ہے۔ سائنس دان یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر انسان بھی دوسرے جانوروں کی طرح جلدی بالغ ہو جاتا تو اس کے دماغ کی وہ پیچیدگی پیدا نہ ہو پاتی جو آج انسانی تہذیب، سائنس اور ٹیکنالوجی کی بنیاد ہے۔ ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ انسانی ارتقا میں “طویل بچپن” ایک فائدہ مند حکمتِ عملی کے طور پر سامنے آیا، جس نے نئی نسل کو زیادہ سیکھنے اور ماحول کے مطابق بہتر طور پر ڈھلنے کا موقع دیا۔ ماہرین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ انسانی نشوونما کی سست رفتار دراصل کمزوری نہیں بلکہ ایک ارتقائی کامیابی ہے، جس نے انسان کو دیگر تمام جانداروں پر نمایاں برتری دی ہے

مزید پڑھیں