Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومامریکہامیگریشن حراستی مرکز کے باہر ہنگامے شدت اختیار کر گئے: قیدیوں کے...

ٹرینڈنگ

امیگریشن حراستی مرکز کے باہر ہنگامے شدت اختیار کر گئے: قیدیوں کے حق میں مظاہرے، گرفتاریاں اور جھڑپیں، حکام پر سنگین الزامات

امیگریشن حراستی مرکز کے باہر ہنگامے شدت اختیار کر گئے: قیدیوں کے حق میں مظاہرے، گرفتاریاں اور جھڑپیں، حکام پر سنگین الزامات

امریکی ریاست نیو جرسی میں واقع ایک امیگریشن حراستی مرکز کے باہر جاری کشیدگی نے ایک نئے موڑ میں داخل ہوتے ہوئے قومی توجہ حاصل کر لی ہے۔ کئی روز سے جاری احتجاج، گرفتاریوں اور مظاہرین و قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں کے بعد ریاستی گورنر مکی شریل نے اعلان کیا ہے کہ قیدیوں سے اہل خانہ کی ملاقاتوں کا سلسلہ دوبارہ بحال کیا جا رہا ہے۔

نیوآرک شہر میں واقع ڈی لینی ہال حراستی مرکز کے باہر ایک ہفتے سے زائد عرصے سے مظاہرین جمع ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مرکز میں موجود افراد کو ناکافی طبی سہولیات، نامناسب رہائشی حالات اور امیگریشن مقدمات میں غیر معمولی تاخیر کا سامنا ہے۔ مظاہرین کے مطابق ان حالات کے خلاف بعض قیدی بھوک ہڑتال اور کام چھوڑنے کی احتجاجی مہم بھی چلا چکے ہیں۔

دوسری جانب امریکی محکمہ داخلی سلامتی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ حراستی مرکز میں تمام افراد کو مقررہ ضوابط کے مطابق سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بعض مظاہرین نے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو دھمکیاں دیں اور پرتشدد رویہ اختیار کیا، جس کے باعث متعدد گرفتاریاں عمل میں لانا پڑیں۔

یہ تنازع ایسے وقت میں شدت اختیار کر رہا ہے جب امریکا میں امیگریشن پالیسی، غیر قانونی داخلے اور زیر حراست تارکین وطن کے ساتھ سلوک کے معاملات پہلے ہی شدید سیاسی بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکن اس واقعے کو امیگریشن نظام میں موجود خامیوں کی علامت قرار دے رہے ہیں، جبکہ حکومتی حلقے قانون کے نفاذ اور سرحدی سلامتی کو اپنی ترجیح قرار دے رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ڈی لینی ہال کے باہر شروع ہونے والا یہ احتجاج محض ایک حراستی مرکز تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے امریکا میں امیگریشن پالیسی، انسانی حقوق اور ریاستی اختیارات کے درمیان جاری کشمکش کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ معاملہ ملکی سیاست اور امیگریشن اصلاحات پر ہونے والی بحث کو مزید گرم کر سکتا ہے

مزید پڑھیں