امریکی عدالت نے ریپبلکن فائدے والا نیا انتخابی نقشہ روک دیا، الاباما میں سیاسی ہلچل تیز
امریکا کی وفاقی عدالت نے ریاست الاباما میں کانگریشنل حلقہ بندیوں کے نئے منصوبے پر عارضی پابندی لگا دی ہے، جسے ریپبلکن جماعت کے لیے ممکنہ سیاسی فائدہ قرار دیا جا رہا تھا۔ تین ججوں پر مشتمل بینچ نے حکم دیا کہ فی الحال وہی حلقہ بندیاں برقرار رہیں گی جن کے تحت 2024 کے انتخابات ہوئے تھے۔ یہ مقدمہ طویل عرصے سے جاری نسلی اور انتخابی تنازع کا حصہ ہے، جہاں سیاہ فام ووٹرز کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ ریاست کی مجوزہ نئی نقشہ بندی دانستہ طور پر بلیک ووٹرز کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کی کوشش ہے۔ عدالت اس سے پہلے بھی 2023 میں قرار دے چکی ہے کہ الاباما کی حلقہ بندیاں امتیازی نوعیت رکھتی تھیں۔ درخواست گزاروں نے عدالت کو بتایا کہ انتخابی سال کے دوران اچانک حلقے تبدیل کرنے کی کوشش سیاسی انتشار اور ووٹرز میں کنفیوژن پیدا کر سکتی ہے۔ عدالت نے ابتدائی طور پر ان خدشات کو وزن دیتے ہوئے نئے نقشے کے نفاذ کو روک دیا۔ امریکی سیاسی مبصرین کے مطابق یہ فیصلہ آئندہ مڈٹرم انتخابات میں نہایت اہم ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ ایوانِ نمائندگان میں چند نشستیں ہی طاقت کا توازن بدل سکتی ہیں۔ ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں اس فیصلے کو مستقبل کی بڑی قانونی اور سیاسی جنگ کا آغاز قرار دے رہے ہیں


