Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومامریکہامریکی سینیٹ میں ایران جنگی اختیارات پر ٹرمپ کو روکنے کی کوشش،...

ٹرینڈنگ

امریکی سینیٹ میں ایران جنگی اختیارات پر ٹرمپ کو روکنے کی کوشش، قرارداد آگے بڑھ گئی

امریکی سینیٹ میں ایران جنگی اختیارات پر ٹرمپ کو روکنے کی کوشش، قرارداد آگے بڑھ گئی
واشنگٹن — امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر ٹم کین کی جانب سے پیش کی گئی ایک قرارداد نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف جنگی اختیارات کو محدود کرنے کی کوششوں کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے، جب کہ ایوان میں اس معاملے پر سیاسی تقسیم مزید گہری ہو گئی ہے
سینیٹر ٹم کین، جو ریاست ورجینیا سے تعلق رکھتے ہیں، نے بحث کے دوران کہا کہ ممکنہ جنگ بندی صدر کے لیے کانگریس کے سامنے اپنا مؤقف پیش کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے، خاص طور پر اس وقت جب وائٹ ہاؤس کے مطابق تہران نے تنازع کے خاتمے کے لیے ایک نیا سفارتی منصوبہ پیش کیا ہے
انہوں نے کہ کہ “یہ بات چیت کا بہترین وقت ہے، اس سے پہلے کہ ہم دوبارہ جنگ کی طرف جائیں۔ صدر کے پاس امن اور سفارتی تجاویز آ رہی ہیں جنہیں وہ بغیر کانگریس کو اعتماد میں لیے مسترد کر رہے ہیں
یہ تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب صدر ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی نے سینیٹ میں ایسی ہی سات سابقہ قراردادوں کو آگے بڑھنے سے روکا۔ اسی طرح ایوانِ نمائندگان میں بھی تین الگ الگ وار پاورز قراردادیں معمولی اکثریت سے ناکام بنا دی گئیں
ووٹنگ میں واضح سیاسی تقسیم
اس بار ہونے والی ووٹنگ میں سیاسی تقسیم نمایاں رہی۔ صرف ایک ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اس قرارداد کے خلاف ووٹ دیا۔ دوسری جانب چند ریپبلکن سینیٹرز—رینڈ پال (کینٹکی)، سوسن کولنز (مین)، اور لِزا مرکووسکی (الاسکا)—نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جو پارٹی لائن سے ہٹ کر ایک غیر معمولی قدم سمجھا جا رہا ہے۔
اسی دوران لوزیانا سے سینیٹر بل کیسڈی نے بھی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جو حال ہی میں ٹرمپ کی حمایت یافتہ امیدوار کے ہاتھوں اپنی پرائمری ہار چکے ہیں
کانگریس اور وائٹ ہاؤس کے درمیان کشمکش
یہ ووٹنگ اس وسیع تر آئینی بحث کا حصہ ہے جس میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ امریکہ میں جنگ شروع کرنے اور فوجی کارروائی کے اختیارات صدر کے پاس ہونے چاہئیں یا کانگریس کے پاس
رپورٹ کے مطابق ریپبلکن پارٹی نے اس سال پہلے بھی سینیٹ میں ایسی قراردادوں کو آگے بڑھنے سے روکا ہے، جبکہ ایوانِ نمائندگان میں بھی ایسی کوششیں ناکام بنائی گئی ہیں
یہ ووٹنگ ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران کے ساتھ تنازع، سفارتی کوششیں اور ممکنہ جنگ بندی کے امکانات ایک ساتھ زیرِ بحث ہیں، اور امریکی سیاسی نظام کے اندر جنگی اختیارات پر ایک بار پھر بنیادی آئینی بحث تیز ہو گئی ہے

مزید پڑھیں