امریکی زمینوں پر تیل کی دوڑ — 4 ارب ڈالر کا تاریخی نیلامی ریکارڈ ٹوٹ گیا” — ایران جنگ کے بعد توانائی کی عالمی سیاست بدلنے لگی۔
امریکی زمینوں پر تیل کی دوڑ — 4 ارب ڈالر کا تاریخی نیلامی ریکارڈ ٹوٹ گیا” — ایران جنگ کے بعد توانائی کی عالمی سیاست بدلنے لگی۔
Devon Energy نے امریکہ میں ہونے والی سرکاری تیل و گیس نیلامی میں غیر معمولی برتری حاصل کرتے ہوئے ایک ایسے تاریخی معاہدے کا حصہ بن لیا ہے جس کی مجموعی مالیت 4 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی — اور اس نے ملک کی آنشور توانائی نیلامیوں کا تمام پرانا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔
یہ نیلامی ایسے وقت میں ہوئی جب United States کی حکومت کی جانب سے وفاقی زمینوں پر ڈرلنگ کے حقوق فروخت کیے جا رہے تھے، اور عالمی سطح پر توانائی کی طلب میں اضافہ دیکھا جا رہا تھا۔
وجہ ایک بار پھر وہی ہے: Iran کی جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی تیل سپلائی کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے بعد خام تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور دنیا بھر میں توانائی کے متبادل ذرائع کی تلاش تیز ہو گئی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق اس نیلامی میں مجموعی بولیاں اس سے پہلے تمام آنشور سرکاری آئل و گیس آکشنز سے کہیں زیادہ تھیں۔ اس سے پہلے کا ریکارڈ 2018 میں 972 ملین ڈالر تھا — جو اب موجودہ 4 ارب ڈالر کے مقابلے میں بہت کم نظر آتا ہے۔
U.S. Bureau of Land Management کے مطابق یہ فروخت اس بات کی علامت ہے کہ صنعت میں ڈرلنگ کے لیے زمینوں کی طلب بہت زیادہ ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سپلائی چین دباؤ میں ہے۔
امریکی وزیر داخلہ Doug Burgum نے کہا کہ یہ نیلامی “امریکی انرجی ڈومیننس” پالیسی کی کامیابی ہے۔ ان کے مطابق:
“کم لاگت، کم رکاوٹیں اور زیادہ پیداوار کے ذریعے ہم امریکی توانائی کو آزاد کر رہے ہیں، قومی سلامتی مضبوط بنا رہے ہیں، روزگار پیدا کر رہے ہیں اور مقامی معیشت کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔”
توانائی کے ماہرین کے مطابق یہ صرف ایک کاروباری لین دین نہیں بلکہ عالمی سطح پر بدلتی ہوئی طاقت کی علامت ہے۔ ایک طرف مشرقِ وسطیٰ میں جنگ اور سپلائی کی بندش ہے، تو دوسری طرف امریکہ اپنی زمینوں سے توانائی نکالنے کی رفتار بڑھا رہا ہے تاکہ عالمی انحصار کو کم کیا جا سکے۔
یہ صورتحال اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ آنے والے برسوں میں تیل اور گیس صرف توانائی کا ذریعہ نہیں رہیں گے — بلکہ عالمی سیاست، جنگ اور معاشی طاقت کا سب سے بڑا ہتھیار بن چکے ہیں۔


