امریکہ میں صاف توانائی پر بڑا جھٹکا: سینکڑوں شمسی منصوبے رُک گئے، بجلی مہنگی ہونے اور عالمی دوڑ میں پیچھے رہنے کا خدشہ
امریکہ میں صاف توانائی پر بڑا جھٹکا: سینکڑوں شمسی منصوبے رُک گئے، بجلی مہنگی ہونے اور عالمی دوڑ میں پیچھے رہنے کا خدشہ”واشنگٹن:امریکہ میں صاف توانائی کی صنعت ایک بڑے بحران سے دوچار ہوتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں شمسی توانائی اور توانائی ذخیرہ کرنے کے سینکڑوں منصوبے سرکاری منظوریوں میں تاخیر، ٹیرف دباؤ اور پالیسی کی تبدیلیوں کے باعث یا تو رُک گئے ہیں یا خطرے میں پڑ گئے ہیںایک تازہ رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں کم از کم 467 بڑے شمسی اور توانائی ذخیرہ کرنے کے منصوبے ایسے ہیں جن کی اجازتیں ابھی زیرِ التوا ہیں، اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ان میں تاخیر یا مکمل منسوخی کا خدشہ ہےحکومت اب زیادہ توجہ تیل، گیس، کوئلہ اور جوہری توانائی پر دے رہی ہے، جبکہ شمسی توانائی جیسے منصوبوں کو اتنی ترجیح نہیں مل رہیشمسی اور صاف توانائی کے منصوبے پیچھے ہونے لگے ہیںبڑے منصوبوں کو شروع کرنے سے پہلے حکومت سے اجازت لینی ہوتی ہے، لیکن اب اجازتیں دیر سے مل رہی ہیں یا بالکل زیرِ التوا ہیںکمپنیاں منصوبے شروع ہی نہیں کر پا رہیںدرآمدی سامان مہنگا ہو گیا ہے، جس سے شمسی پینلز، بیٹری سسٹمز اور دوسرے آلات کی قیمت بڑھ گئی ہے، جس سے منصوبے مہنگے اور مشکل ہو گئے ہیں⚠️ اس کا بڑا خطرہ کیا ہے؟رپورٹ کے مطابق اگر یہ رکاوٹیں جاری رہیں تو بجلی کے بل مزید بڑھ سکتے ہیں، صاف توانائی کی رفتار سست ہو جائے گی، اور امریکہ عالمی ٹیکنالوجی مقابلے میں پیچھے رہ سکتا ہےماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ خاص طور پر چین اس صورتحال سے فائدہ اٹھا کر توانائی اور مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں آگے نکل سکتا ہے🔋 توانائی ذخیرہ کرنے کا نظام کیوں اہم ہے؟رپورٹ کے مطابق توانائی ذخیرہ کرنے کے منصوبے (بیٹری سسٹمز وغیرہ) بجلی کو محفوظ کرتے ہیں، لوڈ شیڈنگ اور اچانک مہنگائی سے بچاتے ہیں، اور بجلی کے نظام کو زیادہ مستحکم بناتے ہیںلیکن یہی شعبہ اس وقت سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے📊 اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟467 منصوبے زیرِ التوا ہیں2030 تک 610 گیگا واٹ گھنٹے سے زیادہ ذخیرہ بڑھنے کی توقع تھیصرف ایک سہ ماہی میں ریکارڈ سطح پر ترقی ہوئی تھی، لیکن اب رفتار سست ہونے کا خدشہ ہےٹیکساس، ایریزونا اور کیلیفورنیا جیسے بڑے ریاستی مراکز میں زیادہ منصوبے لگ رہے ہیں، لیکن مجموعی پالیسی دباؤ پورے ملک کو متاثر کر رہا ہےامریکہ ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف صاف توانائی کا مستقبل ہے، دوسری طرف پرانی توانائی پالیسیوں کی واپسی، اور یہی ٹکراؤ اس وقت پورے توانائی نظام کو غیر یقینی بنا رہا ہے


