Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومامریکہامریکہ میں بھوک نے وبا کے بدترین دنوں کو بھی پیچھے چھوڑ...

ٹرینڈنگ

امریکہ میں بھوک نے وبا کے بدترین دنوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا، لاکھوں خاندان خوراک کے بحران کا شکار

امریکہ میں بھوک نے وبا کے بدترین دنوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا، لاکھوں خاندان خوراک کے بحران کا شکار

دنیا کی سب سے بڑی معیشت کہلانے والے امریکہ میں ایک چونکا دینے والی حقیقت سامنے آئی ہے: آج زیادہ امریکی بھوک کا شکار ہیں بنسبت اُس وقت کے جب کورونا وبا کے دوران لاکھوں لوگ بے روزگار ہو گئے تھے اور پورا ملک لاک ڈاؤن میں بند تھا۔
Federal Reserve Bank of New York کی جانب سے جاری کیے گئے تازہ سروے کے مطابق 2026 میں خوراک کے عدم تحفظ کی شرح گزشتہ چھ برسوں میں سب سے بلند سطح پر پہنچ چکی ہے۔ سروے میں امریکی شہریوں سے پوچھا گیا کہ آیا انہیں کھانے چھوڑنے پڑ رہے ہیں، خوراک کے عطیات پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے یا حکومت کی جانب سے گروسری خریدنے کے لیے امداد لینا پڑ رہی ہے۔
فروری میں کیے گئے اس سروے کے نتائج نے ایک خطرناک تصویر پیش کی: امریکہ میں بھوک اب صرف غریب طبقے کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ متوسط خاندان بھی تیزی سے اس بحران کی لپیٹ میں آ رہے ہیں۔
جارجیا کے شہر آگسٹا میں قائم Golden Harvest Food Bank کی سربراہ ایمی بریٹ مین کا کہنا ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ خوراک مانگنے والے خاندانوں اور بچوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق کئی والدین اب خود کھانا چھوڑ کر بچوں کو کھلانے پر مجبور ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی، رہائش کے بڑھتے اخراجات، کم اجرتیں اور وفاقی امدادی پروگراموں میں کٹوتیاں اس بحران کی بڑی وجوہات بن رہی ہیں۔ کورونا کے دوران حکومت نے اربوں ڈالر کی امداد دی تھی، مگر اب وہ سہولتیں ختم ہو چکی ہیں جبکہ روزمرہ زندگی کے اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔
یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ خود کو معاشی استحکام کی طرف بڑھتا ہوا ظاہر کرتا ہے، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ لاکھوں امریکیوں کے لیے دو وقت کی روٹی حاصل کرنا پہلے سے زیادہ مشکل ہو چکا ہے۔

مزید پڑھیں