“امریکہ زوال پذیر یا پھر مسلسل مضبوط؟” چین-امریکہ طاقت کے بیانیے پر نئی فکری جنگ، انٹیلی جنس تجزیہ کاروں کو ‘ریڈ ٹیم’ چیلنج
“امریکہ زوال پذیر یا پھر مسلسل مضبوط؟” چین-امریکہ طاقت کے بیانیے پر نئی فکری جنگ، انٹیلی جنس تجزیہ کاروں کو ‘ریڈ ٹیم’ چیلنج
واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان جاری اسٹریٹجک مقابلے میں ایک بار پھر وہ پرانا سوال شدت سے سامنے آیا ہے کہ کیا واقعی امریکہ زوال پذیر ہے اور چین تیزی سے عالمی قیادت کی طرف بڑھ رہا ہے، یا یہ صرف ایک سادہ سیاسی بیانیہ ہے جو حقیقت کی مکمل تصویر نہیں دکھاتا؟
ایک حالیہ تجزیاتی تحریر میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ چین کی قیادت، خاص طور پر شی جن پنگ، اس خیال کو تقویت دیتی ہے کہ دنیا ایک تاریخی تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے، جہاں طاقت کا مرکز مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔
اسی تناظر میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھی ایک غیر معمولی ردعمل سامنے آیا، جس میں انہوں نے اس خیال سے کسی حد تک اتفاق کرتے ہوئے یہ تاثر دیا کہ امریکہ واقعی دباؤ اور کمزوری کے دور سے گزر رہا ہے، اگرچہ ان کے مطابق اس کی ذمہ داری سابق صدر جو بائیڈن کی پالیسیوں پر عائد ہوتی ہے۔
انٹیلی جنس اسٹیج کے اندر اصل بحث: “ریڈ ٹیم” تجزیہ
اصل کہانی صرف سیاسی بیانات کی نہیں بلکہ انٹیلی جنس اداروں کے اندر جاری فکری کشمکش کی ہے۔ بیجنگ میں پالیسی سازوں کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ “ریڈ ٹیم” طرز کا تجزیہ کریں، یعنی خود اپنے مانے ہوئے مفروضوں کو شک کی نظر سے دیکھیں۔
عام طور پر چین اور امریکہ دونوں میں یہ تصور مضبوط ہے کہ چین تیزی سے عالمی طاقت بن رہا ہے جبکہ امریکہ بتدریج کمزور ہو رہا ہے۔
مگر “ریڈ ٹیم” تجزیہ اس مفروضے کو چیلنج کرتا ہے۔ اس کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ کہیں یہ بیانیہ خود فریب یا حد سے زیادہ سادہ تو نہیں۔
“امریکہ زوال نہیں بلکہ دباؤ کے باوجود ترقی کرتا نظام”
اس نقطۂ نظر کے مطابق امریکہ کے بارے میں “زوال” کا تصور مکمل نہیں ہے۔ اگرچہ اسے معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور عالمی چیلنجز کا سامنا ہے، لیکن اس کے باوجود امریکی نظام بار بار بحران سے نکل کر دوبارہ مضبوط ہوتا ہے۔ اسی رجحان کو بعض تجزیہ کار “فالنگ اپ ہِل” یعنی گرتے ہوئے بھی اوپر چڑھنے کے مترادف قرار دیتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ کمزور دکھائی دینے کے باوجود اپنی سائنسی، مالیاتی اور ٹیکنالوجیکل طاقت کی وجہ سے عالمی نظام میں اب بھی مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
چین کے بیانیے کی حدود
دوسری طرف چین کا “لازمی عروج” والا بیانیہ بھی کچھ بنیادی چیلنجز رکھتا ہے۔
آبادی میں تیزی سے عمر رسیدگی، معیشت میں ساختی سست روی، عالمی سطح پر اعتماد اور جغرافیائی سیاسی دباؤ، اور ٹیکنالوجی و سپلائی چین پر بڑھتی پابندیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ چین کی ترقی کی رفتار سیدھی اوپر جانے کے بجائے پیچیدہ اور غیر یقینی ہے۔
اصل نتیجہ: طاقت کا سادہ حساب غلط ہو سکتا ہے
اس پوری بحث کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ عالمی طاقت کو صرف مجموعی قومی پیداوار یا فوجی طاقت سے ناپنا اب کافی نہیں رہا۔ جدید دنیا میں اثر و رسوخ زیادہ پیچیدہ عوامل سے جڑا ہے، جیسے ٹیکنالوجی، اتحاد، مالیاتی نظام اور ادارہ جاتی لچک۔
اسی لیے یہ سوال اب بھی کھلا ہے:
کیا واقعی دنیا ایک سیدھے راستے پر “چین کے عروج اور امریکہ کے زوال” کی طرف جا رہی ہے؟
یا پھر حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے، جہاں طاقت بڑھتی بھی ہے اور کمزور بھی دکھائی دیتی ہے، اور بڑے ملک بیک وقت زوال اور استحکام دونوں کا شکار ہو سکتے ہیں؟
ممتاز امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق یہی وہ فکری تضاد ہے جس پر آج بیجنگ اور واشنگٹن دونوں کے پالیسی حلقے خاموشی سے لیکن سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔


