Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومامریکہاقتدار مضبوط… مگر خطرہ بڑھ گیا؟ سیاسی فتح کے باوجود اندر سے...

ٹرینڈنگ

اقتدار مضبوط… مگر خطرہ بڑھ گیا؟ سیاسی فتح کے باوجود اندر سے ہلتی طاقت کا نیا بحران

اقتدار مضبوط… مگر خطرہ بڑھ گیا؟ سیاسی فتح کے باوجود اندر سے ہلتی طاقت کا نیا بحران

حکمران جماعت کے اندر مسلسل فتوحات اور وفاداریوں کے باوجود اقتدار کے ایوانوں میں ایک نیا خوف جنم لینے لگا ہے۔ پارٹی پر مکمل گرفت مضبوط ہوتی جا رہی ہے، مخالف آوازیں خاموش کر دی گئی ہیں اور ایک کے بعد ایک انتخابی کامیابیاں طاقت کا مظاہرہ بن رہی ہیں — مگر سوال اب یہ اٹھ رہا ہے کہ کیا یہی حکمتِ عملی آنے والے بڑے انتخاب میں الٹا دھماکہ ثابت ہو سکتی ہے؟
حالیہ سیاسی معرکوں میں قیادت کی حمایت یافتہ شخصیات نے زبردست کامیابیاں حاصل کیں، جس کے بعد اقتدار کے حلقوں میں جشن کا ماحول دیکھا گیا۔ مگر اندرونی ذرائع اور سیاسی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ پارٹی کے اندر مکمل کنٹرول حاصل کرنا اور عوامی سطح پر مقبول رہنا دو الگ جنگیں ہیں۔
معاشی بے چینی، مہنگائی، تجارتی ہنگامہ خیزی اور بیرونی محاذوں پر بڑھتی کشیدگی نے عام ووٹر کو پریشان کر دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ عوام کے مالی مسائل کو جس انداز میں نظر انداز کیا جا رہا ہے، اس نے حکمران اتحاد کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
سب سے زیادہ تشویش اس بات پر ظاہر کی جا رہی ہے کہ خارجہ محاذ پر جاری تناؤ اور جنگی ماحول کے دوران سیاسی قیادت نے یہ تاثر دیا ہے کہ آنے والے انتخابات ان کی ترجیح نہیں۔ یہی بیان اب مخالفین کے لیے ایک نیا ہتھیار بنتا جا رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اقتدار کا موجودہ ماڈل پارٹی کو اندر سے تو متحد کر سکتا ہے، مگر وسیع عوامی میدان میں یہی سخت گیر انداز الٹا نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب معیشت دباؤ میں ہو، عالمی کشیدگی بڑھ رہی ہو اور ووٹر تھکن محسوس کر رہا ہو۔
واشنگٹن کے طاقتور حلقوں میں اب ایک ہی سوال گردش کر رہا ہے:
کیا مکمل کنٹرول کی یہ سیاست اگلے انتخاب میں سب کچھ بچا لے گی… یا یہی طاقت سب سے بڑا سیاسی بوجھ بن جائے گی؟

مزید پڑھیں