Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبین الاقوامی خبریںافریقہ میں بجلی کے شعبے میں ایک خاموش مگر زبردست انقلاب برپا...

ٹرینڈنگ

افریقہ میں بجلی کے شعبے میں ایک خاموش مگر زبردست انقلاب برپا ہو رہا ہے

افریقہ میں بجلی کے شعبے میں ایک خاموش مگر زبردست انقلاب برپا ہو رہا ہے جہاں اب روایتی کوئلے کے پلانٹس اور دیوہیکل ڈیموں کی جگہ تیزی سے شمسی توانائی، ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبے اور بیٹری اسٹوریج سسٹمز لے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق افریقی حکومتیں اور عالمی سرمایہ کار اب سستی، تیز رفتار اور زیادہ قابلِ اعتماد توانائی کے حل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
اس بڑی تبدیلی کی تازہ مثال چین اور زیمبیا کے درمیان ہونے والا ڈیڑھ ارب ڈالر کا توانائی معاہدہ ہے جس میں تین سو میگاواٹ کے الگ الگ منصوبے شامل ہیں، جن میں شمسی توانائی، ونڈ پاور اور کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔ تاہم مجموعی رجحان واضح طور پر قابلِ تجدید توانائی کی جانب بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔
افریقہ کے کئی ممالک برسوں سے بجلی کے شدید بحران، مہنگے ایندھن اور بار بار بریک ڈاؤن کا شکار رہے ہیں۔ اب شمسی پینلز اور بیٹری ٹیکنالوجی کی قیمتیں کم ہونے کے بعد دیہی علاقوں تک بھی بجلی پہنچانے کے نئے دروازے کھل رہے ہیں۔
توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ افریقہ کے پاس دنیا کے سب سے زیادہ شمسی وسائل موجود ہیں اور اگر یہی رفتار برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں افریقہ دنیا کے سب سے بڑے “گرین انرجی ہب” میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
یہ تبدیلی صرف بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ نہیں بلکہ ایک نئی معاشی جنگ بھی سمجھی جا رہی ہے جہاں چین، مغربی ممالک اور عالمی سرمایہ کار افریقہ کے توانائی مستقبل میں اثر و رسوخ حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں۔

مزید پڑھیں