افتتاح ہوا سڑک کا مگر بحث پہنچ گئی پرانی گلیوں تک، ذمہ داری کس کی؟ نیا سیاسی معرکہ چھڑ گیا
افتتاح ہوا سڑک کا مگر بحث پہنچ گئی پرانی گلیوں تک، ذمہ داری کس کی؟ نیا سیاسی معرکہ چھڑ گیا
کراچی میں ایک بڑے ترقیاتی منصوبے کی افتتاحی تقریب ایک بار پھر شہر کی روایتی سیاسی کشمکش کی نذر ہو گئی، جہاں منصوبے کی بات کم اور الزام تراشی کی سیاست زیادہ زیر بحث رہی۔ تقریب میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کے ترقیاتی اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں بڑے انفراسٹرکچر منصوبے تیزی سے مکمل کیے جا رہے ہیں اور شہر کو جدید ٹرانسپورٹ نظام کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔
بلاول بھٹو کے خطاب میں اگرچہ کسی سیاسی جماعت کا نام براہِ راست نہیں لیا گیا، تاہم ان کے لہجے اور جملوں میں “ماضی کی رکاوٹوں” اور “سیاسی سازشوں” کا ذکر کیا گیا، جسے سیاسی حلقوں نے بالخصوص کراچی کی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ پاکستان سے جوڑ کر دیکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی کاموں کے راستے میں مختلف رکاوٹیں رہی ہیں، لیکن حکومت اپنے منصوبے مکمل کر رہی ہے اور عوام کو ریلیف دینے کا عمل جاری ہے۔
تقریب کے بعد متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا، جس میں کہا گیا کہ ایک ترقیاتی افتتاحی منصوبے کو سیاسی رنگ دے کر غلط تاثر پیدا کیا جا رہا ہے۔ جماعت کے رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا کہ کراچی کے مسائل کسی ایک جماعت یا ایک دور کی پیداوار نہیں بلکہ یہ کئی دہائیوں پر محیط گورننس کے مسائل ہیں۔ ان کے مطابق شہر میں انفراسٹرکچر کی خرابی اور ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر کی ذمہ داری کو صرف ایک سیاسی فریق پر ڈالنا درست نہیں۔
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے یہ بھی کہا کہ کراچی میں جاری بعض منصوبوں کو سیاسی کریڈٹ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جبکہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ شہر کے کئی علاقوں میں اب بھی سڑکوں کی حالت خراب ہے، پانی اور نکاسی آب کے مسائل برقرار ہیں اور عوام کو روزمرہ مشکلات کا سامنا ہے۔
دوسری طرف شہریوں کی رائے بھی اس بحث میں تقسیم نظر آتی ہے۔ کچھ شہریوں نے حالیہ تعمیراتی کاموں اور سڑکوں کی بہتری کو مثبت پیش رفت قرار دیا ہے جبکہ دیگر نے اس بات پر سوال اٹھایا ہے کہ کئی منصوبے طویل عرصے سے زیر تعمیر ہیں اور ان کی رفتار تسلی بخش نہیں۔
کراچی میں اس طرح کے منصوبے اکثر سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جہاں ایک طرف حکومت اپنی کارکردگی کو نمایاں کرنے کی کوشش کرتی ہے اور دوسری طرف اپوزیشن جماعتیں ان منصوبوں پر سوالات اٹھا کر گورننس کو تنقید کا نشانہ بناتی ہیں۔
مجموعی طور پر یہ صورتحال ایک بار پھر اسی پرانے سیاسی دائرے میں گھومتی نظر آتی ہے جہاں ترقیاتی منصوبے عوامی خدمت کے بجائے سیاسی بیان بازی اور الزام تراشی کا حصہ بن جاتے ہیں، اور اصل بحث منصوبے سے زیادہ اس کے کریڈٹ اور ذمہ داری کے گرد گھومنے لگتی ہے۔


