اسلام آباد کے ایوانوں میں خاموشی نہیں… ایک نئی طاقت ابھرتی محسوس ہو رہی ہے” محسن نقوی کا بڑھتا ہوا کردار
اسلام آباد کے ایوانوں میں خاموشی نہیں… ایک نئی طاقت ابھرتی محسوس ہو رہی ہے” — محسن نقوی کا بڑھتا ہوا کردار، سوالات اور سیاسی سرگوشیاں اسلام آباد کی راتیں ان دنوں غیر معمولی حد تک خاموش ضرور ہیں، مگر یہ خاموشی سکون نہیں بلکہ ایک ایسے سیاسی ارتعاش کی علامت بنتی جا رہی ہے جو طاقت کے نقشے کو اندر سے بدل رہا ہے۔ محسن نقوی گزشتہ چند ماہ میں بار بار ان مناظر کے مرکز میں نظر آئے ہیں جہاں فیصلے صرف اعلان نہیں ہوتے بلکہ بنتے ہیں۔ سیکیورٹی، سفارت کاری اور حساس مذاکرات کے کئی اہم حلقوں میں ان کی موجودگی نے ایک ایسا سوال پیدا کر دیا ہے جس کا باضابطہ جواب ابھی تک کسی کے پاس نہیں۔ یہ سوال سادہ نہیں بلکہ طاقت کے اس پیچیدہ نظام سے جڑا ہے جس میں پاکستان جیسے ملک میں اصل اثر و رسوخ اکثر آئینی عہدوں سے آگے کہیں اور ہوتا ہے۔ حکومتی اجلاس ہوں یا اعلیٰ سطحی ملاقاتیں، بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک غیر معمولی تسلسل کے ساتھ ایک ہی نام بار بار ابھر رہا ہے۔ سرکاری بیانیہ خاموش ہے لیکن سیاسی حلقوں میں گفتگو تیز ہو چکی ہے۔ کچھ مبصرین اسے محض انتظامی کارکردگی اور بحران کے دوران فعال کردار قرار دیتے ہیں، مگر کچھ دوسرے حلقے اسے ایک وسیع تر “ری اسٹرکچرنگ” کا حصہ سمجھتے ہیں جہاں طاقت آہستہ آہستہ واضح شکل اختیار کر رہی ہے لیکن اس کا اعلان ابھی باقی ہے۔ اسلام آباد کے سیاسی کوریڈورز میں یہ سوال سرگوشیوں کی صورت میں گھوم رہا ہے کہ کیا یہ محض ایک فعال وزیر کا ابھرتا ہوا کردار ہے یا پھر ایک ایسے سیاسی مستقبل کی ابتدائی جھلک جس کا نقشہ ابھی عوام کے سامنے نہیں آیا۔ ان قیاس آرائیوں کے باوجود ایک حقیقت واضح ہے کہ اس وقت پاکستان کی ریاستی مشینری ایک ایسے مرحلے میں ہے جہاں فیصلے تیزی سے ہو رہے ہیں، کردار بدل رہے ہیں اور طاقت کی لائنیں پہلے سے زیادہ دھندلی دکھائی دے رہی ہیں۔ اور اسی دھند میں ہر نئی ملاقات، ہر نئی تصویر اور ہر نیا اجلاس ایک نیا سوال چھوڑ جاتا ہے کہ اصل طاقت کہاں ہے اور اگلا چہرہ کون ہوگا


