ابراہام معاہدے کی نئی کوشش، ایران جنگ کے بعد امریکہ کا دباؤ، عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان اختلافات نے خطے میں نئی سفارتی کشیدگی پیدا کر دی
ابراہام معاہدے کی نئی کوشش، ایران جنگ کے بعد امریکہ کا دباؤ، عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان اختلافات نے خطے میں نئی سفارتی کشیدگی پیدا کر دی واشنگٹن / ریاض / یروشلم: ابراہام معاہدے کو ایک بار پھر مشرق وسطیٰ کی سفارتکاری کے مرکز میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال نے اس عمل کو پہلے سے زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عرب اور مسلم رہنماؤں کے ساتھ گفتگو میں یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ یا کشیدگی کے خاتمے کے بعد خطے میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے عمل کو آگے بڑھایا جائے، جس کا مرکزی فریم ورک ابراہام معاہدہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم اس تجویز پر فوری اتفاق سامنے نہیں آیا۔ سعودی عرب کی جانب سے واضح مؤقف اپنایا گیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی کسی بھی پیش رفت کے لیے فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق واضح اور قابل عمل یقین دہانی ضروری ہے، جبکہ اسرائیل اس شرط کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں۔ اسی دوران ایران کے ساتھ حالیہ جنگی ماحول اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خلیجی ممالک کے فیصلوں کو مزید محتاط بنا دیا ہے۔ بعض سفارتی ذرائع کے مطابق خلیجی ریاستیں اس وقت کسی بھی ایسے قدم سے گریز کر رہی ہیں جو انہیں براہ راست بڑے تنازعات کے قریب لے جائے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ کی کوشش ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی میں کمی کے ساتھ ساتھ ابراہام معاہدے کو دوبارہ فعال کیا جائے، تاہم مختلف ممالک کے مفادات، سکیورٹی خدشات اور فلسطینی مسئلے پر اختلافات اس عمل میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں خطے کا سفارتی مستقبل غیر یقینی ہے اور آئندہ فیصلے اس بات پر منحصر ہوں گے کہ فریقین اپنے مؤقف میں کس حد تک لچک پیدا کرتے ہیں


