آموں کی عالمی دوڑ: ذائقہ نہیں، مارکیٹگ جیتتی ہے،امریکہ میں بھارتی آم کیوں آگے، پاکستانی کیوں پیچھے؟
آموں کی عالمی دوڑ: ذائقہ نہیں، مارکیٹگ جیتتی ہے،امریکہ میں بھارتی آم کیوں آگے، پاکستانی کیوں پیچھے؟
رپورٹ آفاق فاروقی
امریکہ کی منڈی میں آم ایک عام پھل سے بڑھ کر ایک خاموش معاشی مقابلے کی علامت بن چکے ہیں، جہاں سوال یہ نہیں کہ کون سا آم زیادہ میٹھا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کس ملک نے اپنے آم کو عالمی منڈی تک زیادہ مؤثر انداز میں پہنچایا ہے۔ بھارتی اور پاکستانی آم دونوں اپنی اپنی جگہ دنیا بھر میں شہرت رکھتے ہیں، مگر امریکی بازار میں ان کی موجودگی اور قیمتوں میں واضح فرق ایک بڑے معاشی اور تجارتی تضاد کی نشاندہی کرتا ہے
امریکہ میں بھارتی آم، خاص طور پر الفانسو اور کیسر، ایک پریمیم مصنوعات کے طور پر فروخت ہوتے ہیں اور عام طور پر ایک ڈبہ جس میں تقریباً دس سے بارہ آم ہوتے ہیں پچاس سے اسی ڈالر تک میں بکتا ہے۔ یہ آم اکثر مارکیٹ میں آتے ہی تیزی سے فروخت ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ صرف ذائقہ نہیں بلکہ ایک منظم تجارتی ڈھانچہ، مسلسل سپلائی، اور برسوں پر محیط برانڈنگ ہے۔ بھارت نے آم کو صرف زرعی پیداوار نہیں رہنے دیا بلکہ اسے ایک شناخت بنا کر عالمی منڈی میں پیش کیا ہے، اور امریکی قواعد و ضوابط کے باوجود جن میں سخت سائنسی معائنے اور درآمدی شرائط شامل ہیں، وہ اس مارکیٹ میں اپنی مضبوط جگہ بنانے میں کامیاب رہا ہے
اس کے برعکس پاکستانی آم، جن میں چوسہ، سندھڑی اور لنگڑا جیسے اقسام شامل ہیں، ذائقے، خوشبو اور رس کے لحاظ سے دنیا کے بہترین آموں میں شمار کیے جاتے ہیں اور ماہرین کے مطابق بعض اقسام عالمی معیار میں نمایاں برتری رکھتی ہیں، مگر امریکی منڈی میں ان کی موجودگی محدود نظر آتی ہے۔ اگر دستیاب ہوں تو ان کی قیمت بھی بھارتی آم کے مقابلے میں تقریباً آدھی ہوتی ہے، لیکن اصل مسئلہ قیمت نہیں بلکہ مستقل دستیابی اور مضبوط برانڈ شناخت کا نہ ہونا ہے
یہ فرق بنیادی طور پر زرعی معیار کا نہیں بلکہ مارکیٹ تک رسائی اور حکمت عملی کا ہے۔ بھارت نے اپنی زرعی برآمدات کو ایک منظم نظام کے تحت عالمی منڈیوں تک پہنچایا ہے، جبکہ پاکستان میں یہ نظام نسبتاً محدود، غیر مسلسل اور کم مربوط رہا ہے۔ عالمی منڈی میں وہی مصنوعات مضبوط ہوتی ہیں جن کی سپلائی یقینی ہو، جن کی شناخت واضح ہو، اور جن کے پیچھے مسلسل تجارتی اور سفارتی کوششیں موجود ہوں، یہاں یہ امر دلچسپی سے ہرگز خالی نہیں جب امریکہ نے پاکستان کو پہلی بار پاکستان درآمد کرنے کی اجازت دی اور پاکستان نے جس طرح امریکہ میں تعلقات اقربا پروری کی روایت کو قائم رکھتے ہوئے پسند ناپسند کی بنیاد پر پاکستانی آم متعارف کرنے کا جو طریقہ اپنا اسے دیکھتے ہوئے پہلے ہی کہہ دیا گیا تھا، اس کاروبار کا بھی وہی حشر ہوگا جو ملک کے ہر کاروبار کا حشر ہے اور پھر پاکستانی آم کے ساتھ ابتدا میں ہی جو ہوا وہ پوری ایک درد ناک کہانی ہے ، جبکہ بھارتی عام جو پاکستانی عام کے مقابلے میں نچلے درجے کا عام سمجھا جاتا ہے اسکے بارے میں کل ہی امریکہ کے ممتاز ترین اخبار وال اسٹریٹ جنرل نے امریکہ میں بھارتی آم کی پسندیدگی کے پسمنظر میں استعمال ہونے والے مشہور جملے کو اپنی ہیڈ لائن بنایا ہے “ Americans will do “”anything to get Indian Mangoes “
یوں آموں کی یہ خاموش عالمی دوڑ ایک سادہ حقیقت سامنے لاتی ہے کہ بین الاقوامی تجارت میں ذائقہ ہمیشہ فیصلہ کن عنصر نہیں ہوتا، بلکہ اکثر فیصلہ وہ نظام کرتا ہے جو اس ذائقے کو دنیا تک پہنچاتا ہے


