Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبین الاقوامی خبریںآبنائے ہرمز پر ایران کا شکنجہ سخت، جزیراتی چوکیاں، خفیہ معاہدے اور...

ٹرینڈنگ

آبنائے ہرمز پر ایران کا شکنجہ سخت، جزیراتی چوکیاں، خفیہ معاہدے اور “محفوظ گزرگاہ فیس” نے دنیا کو ہلا دیا

آبنائے ہرمز پر ایران کا شکنجہ سخت، جزیراتی چوکیاں، خفیہ معاہدے اور “محفوظ گزرگاہ فیس” نے دنیا کو ہلا دیا

خلیج کے حساس ترین بحری راستے آبنائے ہرمز میں ایران نے اپنی گرفت مزید مضبوط کرتے ہوئے ایک ایسا نیا کنٹرول سسٹم نافذ کر دیا ہے جس نے عالمی توانائی منڈیوں، بحری تجارت اور مغربی طاقتوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک تفصیلی تحقیق کے مطابق ایران اب آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے کئی سطحوں پر مشتمل نگرانی، منظوری اور بعض اوقات “فیس” پر مبنی نظام چلا رہا ہے، جس کے بغیر محفوظ گزرگاہ تقریباً ناممکن بنتی جا رہی ہے
رپورٹ کے مطابق ایرانی بحری نگرانی اب صرف عسکری موجودگی تک محدود نہیں رہی بلکہ تہران نے جزائر پر قائم چیک پوائنٹس، ساحلی نگرانی، حکومتی سطح کے خفیہ معاہدوں اور سخت جانچ پڑتال کے ذریعے عملاً آبنائے ہرمز پر اپنی فیصلہ کن گرفت قائم کر لی ہے
اسی نظام کے تحت 330 میٹر طویل آئل ٹینکر “Agios Fanourios I”، جو عراقی خام تیل لے کر ویتنام جا رہا تھا، کئی روز تک دبئی کے ساحل کے قریب پھنسا رہا۔ بعد ازاں 10 مئی کو یہ جہاز ایران کے ساتھ ایک براہِ راست معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز کی جانب روانہ ہوا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس معاہدے کی نگرانی خود عراقی وزیرِ اعظم کے دفتر نے کی
ذرائع کے مطابق جہاز کو ایرانی حکام کی جانب سے مخصوص راستہ اختیار کرنے کی ہدایات دی گئیں، جہاں اسے ایرانی ساحل کے قریب رہتے ہوئے جزیراتی چیک پوائنٹس کے درمیان سے گزارا گیا۔ جہاز کے عملے نے انتہائی احتیاط اور خوف کے ماحول میں یہ سفر مکمل کیا
رائٹرز کی تحقیقات کے مطابق ایران نے ایک ایسا “ملٹی ٹئیر کلیئرنس میکانزم” قائم کر دیا ہے جس میں

  • بعض جہازوں کے لیے حکومت سے حکومت کے معاہدے ضروری ہوتے ہیں،
  • بعض کو ایرانی سکیورٹی جانچ سے گزرنا پڑتا ہے،
  • جبکہ کچھ معاملات میں محفوظ گزرگاہ کے لیے مالی ادائیگی یا خصوصی انتظامات بھی شامل ہوتے ہیں
    امریکی حکومت نے عالمی شپنگ کمپنیوں اور اتحادی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے ان ضابطوں یا مالی مطالبات کو تسلیم نہ کیا جائے، کیونکہ واشنگٹن اسے بین الاقوامی سمندری آزادی کے اصولوں کے خلاف سمجھتا ہے۔ تاہم توانائی کے بحران اور تیل کی شدید ضرورت کے باعث کئی حکومتیں اور شپنگ کمپنیاں خطرہ مول لیتے ہوئے ایرانی شرائط ماننے پر مجبور دکھائی دے رہی ہیں
    ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم تیل گزرگاہ ہے جہاں سے عالمی تیل سپلائی کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اگر ایران اس راستے پر اپنی گرفت مزید مضبوط کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی طاقتوں کے توازن پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں
    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال محض بحری نگرانی نہیں بلکہ خطے میں طاقت کے ایک نئے جغرافیائی اور معاشی کھیل کی علامت ہے، جہاں ایران جنگ، پابندیوں اور توانائی بحران کے بیچ آبنائے ہرمز کو ایک اسٹریٹیجک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا دکھائی دے

مزید پڑھیں