صدر بھی، نگران بھی، سرمایہ کار بھی؛ ٹرمپ کی دولت کا نیا راز کرپٹو کرنسی ،
صدر بھی، نگران بھی، سرمایہ کار بھی؛ ٹرمپ کی دولت کا نیا راز کرپٹو کرنسی ،
وائٹ ہاؤس میں دولت کمانے کے انداز بھی بدل گئے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت میں ان کی آمدنی کا بڑا ذریعہ جائیدادوں، ہوٹلوں اور گالف کلبوں کا کاروبار تھا، مگر اب دولت کا سب سے تیز بہاؤ کرپٹو کرنسی اور اس سے وابستہ منصوبوں سے آ رہا ہے۔ دلچسپ بلکہ غیر معمولی بات یہ ہے کہ جن شعبوں سے یہ کمائی ہو رہی ہے، ان کے قواعد و ضوابط کی نگرانی بھی اسی انتظامیہ کے ہاتھ میں ہے جس کی باگ ڈور خود ٹرمپ کے پاس ہے۔ یوں ایک طرف حکومت ریگولیٹر کی کرسی پر بیٹھی ہے اور دوسری طرف صدر اسی میدان کے بڑے سرمایہ کار بھی ہیں، اور اگر ٹرمپ کی دنیا میں دوستی پسند ناپسند کی وجہ پر غور کریں تو وہ سیاسی جمہوری معاشی پالیسوں کی بجائے کس کی کرپٹو میں کتنی دلچسی ہے کی بنیاد پر ملے گی کہ ٹرمپ جو کبھی مودی کے دوست تھے اچانک بھارت کے دشمن پاکستان کے دوست بن گئے حالانکہ ٹرمپ پاکستان کے دوست نہیں فیلڈ مار شل انکے وزیر اعظم انکے نائب وزیر اعظم انکے فرنٹ میں کے دوست ہیں جو سب کے سب اپنے اپنے خاندان کے ساتھ کرپٹو کے دھندے میں ملوث ہیں ، ادھر پاکستانی عوام ٹرمپ کی اپنی اشراقیہ سے دوستی کو امریکہ کی پاکستان سے دوستی سمجھ رہے
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق جدید امریکی تاریخ میں کسی صدر کی دولت نے دورانِ اقتدار اس رفتار سے اضافہ نہیں کیا۔ گویا امریکی سیاست میں اب صرف ووٹوں کی گنتی نہیں ہوتی، ڈیجیٹل سکوں کی کھنک بھی اقتدار کے ایوانوں تک سنائی دیتی ہے، اور رئیل اسٹیٹ کی بلند و بالا عمارتیں بھی کرپٹو کی برق رفتار دنیا کے سامنے کچھ مدھم پڑتی دکھائی دیتی ہے


