نجکاری کے بعد پی آئی اے کی قیادت بھی تجربہ کار ہاتھوں میں، جنرل (ریٹائرڈ) انور علی حیدر نئے چیئرمین مقرر
نجکاری کے بعد پی آئی اے کی قیادت بھی “تجربہ کار “ہاتھوں میں، جنرل (ریٹائرڈ) انور علی حیدر نئے چیئرمین مقرر
نجکاری کے بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز جسے فوجی اثاثوں میں ایک نیا اور سب سے مہنگا اہم ترین اثاثہ قرار دیا جارہا اور جسے اونے پونے داموں خریدا گیا ہے ، کے نئے دور کا آغاز کرتے ہوئے جنرل (ریٹائرڈ) انور علی حیدر کو قومی فضائی کمپنی کا چیئرمین مقرر کر دیا گیا ہے۔ یہ تقرری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پی آئی اے کو مالی استحکام، انتظامی اصلاحات اور عالمی فضائی صنعت میں دوبارہ مسابقت کے قابل بنانے کا چیلنج درپیش ہے، اور جسے انہی تجربے کار افراد نے تباہ کرکے فروخت کرنے پر مجبور کیا
اگرچہ پی آئی اے اب ایک نجی ادارے کے طور پر اپنی نئی منزل کی طرف بڑھ رہی ہے، تاہم اس کی قیادت ایک ایسی شخصیت کے سپرد کی گئی ہے جسے عسکریُ کے بعد انتظامی، حکومتی اور کارپوریٹ شعبوں میں کئی دہائیوں سے مسلط کررکھا ہے تاہم ظاہر یہ کیا جارہا ہے کہ یہ تقرری کامیابی کی علامت ہے کہ نئے مالکان نے ادارے کی بحالی کے لیے ایسے فرد پر اعتماد کیا ہے جسے بڑے اداروں کے انتظام اور بحرانوں سے نمٹنے کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔
جنرل (ریٹائرڈ) انور علی حیدر نے مارچ 1984 میں فرنٹیئر فورس رجمنٹ سے فوجی خدمات کا آغاز کیا اور تقریباً پینتیس برس تک پاکستان فوج میں مختلف اہم ذمہ داریاں نبھائیں۔ اپنے کیریئر کے دوران انہوں نے انفنٹری بٹالین، بریگیڈ اور ڈویژن کی کمان کی، جبکہ جنرل ہیڈکوارٹرز میں بھی متعدد اہم انتظامی اور عملی عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ فوج سے ریٹائرمنٹ کے وقت وہ ایڈجوٹنٹ جنرل کے منصب پر فائز تھے، جو پاک فوج کے اہم ترین انتظامی عہدوں میں شمار ہوتا ہے
فوجی خدمات کے علاوہ وہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے صدر بھی رہے، جہاں اعلیٰ عسکری تعلیم اور اسٹریجک منصوبہ بندی سے متعلق امور کی نگرانی ان کی ذمہ داری تھی
ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ان کی انتظامی ذمہ داریاں جاری رہیں، وہ نیا پاکستان ہاؤسنگ اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین رہے، جبکہ نگران وفاقی حکومت میں وزیرِ دفاع اور وزیرِ دفاعی پیداوار کے فرائض بھی انجام دیے۔ اس کے علاوہ وہ فوجی فاؤنڈیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں اور ملک کی کئی بڑی صنعتی و تجارتی کمپنیوں، جن میں فوجی فرٹیلائزر کمپنی، عسکری بینک، ماری انرجیز اور فوجی سیمنٹ شامل ہیں، کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا بھی حصہ رہ چکے ہیں
تعلیمی اعتبار سے جنرل (ریٹائرڈ) انور علی حیدر کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اور امریکہ کے آرمی وار کالج سے اعلیٰ عسکری تعلیم حاصل کر چکے ہیں، جبکہ نمایاں فوجی خدمات پر انہیں ہلالِ امتیاز (ملٹری) سمیت متعدد اعزازات سے بھی نوازا گیا
اسٹیبلشمنٹ کے تنخواہ دار تجزیہ کاروں کے مطابق نجکاری کے بعد پی آئی اے کی کامیابی کا انحصار صرف سرمایہ کاری پر نہیں بلکہ مؤثر قیادت، مضبوط نظم و نسق اور ادارہ جاتی اصلاحات پر بھی ہوگا۔ ایسے میں ایک طویل انتظامی اور قائدانہ تجربہ رکھنے والی شخصیت کو چیئرمین مقرر کرنا اسی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے
جنرل (ریٹائرڈ) انور علی حیدر کے سامنے اب سب سے بڑا امتحان یہ ہوگا کہ وہ خسارے، انتظامی مسائل اور عالمی مسابقت جیسے چیلنجز سے نبرد آزما ہو کر پی آئی اے کو ایک منافع بخش، قابلِ اعتماد اور بین الاقوامی معیار کی فضائی کمپنی میں تبدیل کر پاتے ہیں یا نہیں



