یاسمین راشد، ایک بڑی نظر یاتی آواز جو خاموش ہو گئی
یاسمین راشد، ایک بڑی نظر یاتی آواز جو خاموش ہو گئی
پاکستان تحریکِ انصاف کی سینئر رہنما، معروف ماہرِ امراضِ نسواں، سماجی کارکن اور سابق صوبائی وزیرِ صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کے انتقال کی اطلاعات پر ملک کی سیاسی فضا سوگوار ہوگئی ہے۔ پارٹی کے متعدد سینئر رہنماؤں نے سوشل میڈیا پر تعزیتی پیغامات جاری کرتے ہوئے ان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور انہیں ایک بااصول، بے خوف اور نظریاتی رہنما قرار دیا ہے۔ تاہم خبر فائل کیے جانے تک اہلِ خانہ کی جانب سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی تھی۔
ڈاکٹر یاسمین راشد پاکستان کی اُن چند سیاسی شخصیات میں شمار ہوتی تھیں جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں طب کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے کے بعد سیاست کا رخ کیا۔ بطور ماہرِ امراضِ نسواں انہوں نے ہزاروں خاندانوں کی خدمت کی، جبکہ سماجی شعبے میں بھی ان کا کردار ہمیشہ نمایاں رہا۔ بعد ازاں وہ پنجاب کی وزیرِ صحت رہیں اور عوامی صحت کے شعبے میں متعدد اصلاحاتی اقدامات سے ان کا نام وابستہ رہا۔
انہوں نے عملی سیاست میں قدم رکھنے کے بعد مشکل ترین سیاسی معرکوں کا سامنا کیا۔ 2017 میں لاہور کے حلقے میں نواز شریف کے مقابلے میں انتخاب لڑا اور 2024 کے عام انتخابات میں بھی ایک مرتبہ پھر اسی سیاسی میدان میں اتریں۔ تحریکِ انصاف کا مؤقف تھا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد نے انتخاب میں برتری حاصل کی تھی، تاہم سرکاری نتائج میں کامیابی نواز شریف کے نام رہی، جس پر پارٹی نے انتخابی نتائج پر شدید اعتراضات اٹھائے اور انہیں “فارم 47” کے نتائج قرار دیا۔
9 مئی کے واقعات کے بعد ڈاکٹر یاسمین راشد کو گرفتار کر لیا گیا اور وہ طویل عرصے تک قید رہیں۔ مختلف مقدمات میں انہیں حالیہ مہینوں کے دوران مجموعی طور پر متعدد سزائیں بھی سنائی گئیں۔ اس تمام عرصے میں شدید علالت اور سرطان جیسے موذی مرض کا سامنا کرنے کے باوجود انہوں نے اپنے سیاسی مؤقف سے دستبردار ہونے یا کسی قسم کی مفاہمت اختیار کرنے کے آثار نہیں دکھائے۔
ڈاکٹر یاسمین راشد کو تحریکِ انصاف کے اندر ایک نظریاتی، ثابت قدم اور بے باک رہنما کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ ان کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی پوری سیاسی زندگی میں اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا اور آخری وقت تک اپنی جماعت اور اپنے سیاسی نظریے کے ساتھ وابستہ رہیں۔
اگر ان کے انتقال کی اطلاعات کی باضابطہ تصدیق ہو جاتی ہے تو پاکستان ایک ایسی خاتون سے محروم ہو جائے گا جس نے طب، سماجی خدمت اور سیاست تینوں میدانوں میں اپنی شناخت قائم کی۔ ان کی زندگی اس بات کی گواہ رہی کہ اختلافِ رائے، سیاسی جدوجہد اور نظریاتی وابستگی کی قیمت بعض اوقات انسان کو اپنی صحت، آزادی اور سکون کی صورت میں بھی ادا کرنا پڑتی ہے۔
ڈاکٹر یاسمین راشد کی شخصیت کے بارے میں رائے مختلف ہو سکتی ہے، لیکن ان کے حامی اور مخالف دونوں اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ وہ اپنے مؤقف پر ڈٹ جانے والی، بے خوف اور غیر معمولی حوصلے کی حامل خاتون تھیں۔ اگر ان کے انتقال کی خبر درست ثابت ہوتی ہے تو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ان کا نام ایک ایسی نظریاتی سیاست دان کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے اپنی زندگی کے آخری دور تک اپنے یقین اور اپنے مؤقف کا ساتھ نہیں چھوڑا



