انڈین پولیٹیکل لیگ: جب سیاسی وفاداریاں بھی نیلامی کا مال بن جائیں
انڈین پولیٹیکل لیگ: جب سیاسی وفاداریاں بھی نیلامی کا مال بن جائیں
بھارت کی سیاست میں کبھی جماعت بدلنا ایک غیر معمولی واقعہ سمجھا جاتا تھا۔ کسی رکنِ اسمبلی یا پارلیمنٹ کے پارٹی چھوڑنے پر سیاسی بھونچال آ جاتا، نظریات، اصولوں اور عوامی مینڈیٹ پر بحث چھڑ جاتی۔ لیکن آج کا منظر نامہ بالکل مختلف ہے۔ دہلی سے مہاراشٹر تک سیاسی وفاداریوں کی تبدیلی اب ایک ایسی عوامی نمائش بن چکی ہے جسے دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سیاست ایک “انڈین پولیٹیکل لیگ” میں تبدیل ہو گئی ہو، جہاں کھلاڑیوں کی طرح سیاست دان بھی بولی لگنے پر ایک ٹیم سے دوسری ٹیم میں منتقل ہو جاتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں مہاراشٹر اس رجحان کی سب سے نمایاں مثال بن کر سامنے آیا۔ پہلے شیو سینا کی تقسیم، پھر نیشنلسٹ کانگریس پارٹی میں بغاوت اور بعد ازاں مختلف رہنماؤں کا سیاسی کیمپ تبدیل کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ اقتدار کے مراکز اب نظریاتی وابستگیوں سے زیادہ طاقت کے توازن کے گرد گھوم رہے ہیں۔ عوام جن نمائندوں کو ایک منشور اور ایک جماعت کے نام پر منتخب کرتے ہیں، وہی نمائندے چند ماہ بعد کسی دوسری صف میں کھڑے نظر آتے ہیں۔
دہلی میں بھی یہی رجحان دکھائی دے رہا ہے۔ انتخابات کے قریب آتے ہی مختلف جماعتوں کے رہنماؤں کی وفاداریاں تبدیل ہونا، ایک دوسرے پر “خرید و فروخت” کے الزامات لگانا اور پھر انہی شخصیات کا نئی جماعتوں میں خیر مقدم کیا جانا اس سیاسی ثقافت کی عکاسی کرتا ہے جس میں نظریاتی اختلافات ثانوی اور انتخابی امکانات بنیادی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔
سیاسیات کے ماہرین کے مطابق یہ محض انفرادی فیصلوں کا معاملہ نہیں بلکہ پورے سیاسی نظام کی ساخت میں آنے والی تبدیلی کا اظہار ہے۔ اقتدار کی سیاست میں اب جماعتیں صرف عوامی حمایت بڑھانے کے لیے نہیں بلکہ مخالف جماعتوں کو کمزور کرنے کے لیے بھی ارکان کو اپنی طرف راغب کرتی ہیں۔ یوں سیاسی وفاداری ایک اصولی وابستگی کے بجائے ایک قابلِ تبادلہ اثاثہ بنتی جا رہی ہے۔
اس رجحان کا سب سے بڑا نقصان جمہوری اعتماد کو پہنچتا ہے۔ ووٹر جب کسی امیدوار کو ایک مخصوص جماعت، نظریے یا انتخابی وعدے کی بنیاد پر ووٹ دیتا ہے اور وہی نمائندہ بعد میں دوسری جماعت میں شامل ہو جاتا ہے تو عوام کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اصل مینڈیٹ کس کے پاس ہے: ووٹر کے پاس یا اقتدار کے ایوانوں میں ہونے والی سیاسی سودے بازی کے پاس؟
معروف فرانسیسی مفکر میشیل فوکو نے طاقت کو محض اداروں تک محدود نہیں بلکہ ایک مسلسل گردش کرنے والی قوت قرار دیا تھا۔ بھارت کی موجودہ سیاست بھی اسی تصور کی عکاس دکھائی دیتی ہے، جہاں طاقت صرف انتخابات کے ذریعے حاصل نہیں کی جاتی بلکہ منتخب نمائندوں کی صف بندی تبدیل کرکے بھی پیدا کی جاتی ہے۔
اسی طرح نکولو میکیاویلی کے سیاسی حقیقت پسندی کے نظریات کو دیکھیں تو اقتدار کے حصول اور بقا کے لیے عملی حکمتِ عملی کو اکثر اصولی سیاست پر فوقیت دی جاتی ہے۔
سوال یہ نہیں کہ جماعتی تبدیلیاں کیوں ہو رہی ہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا یہ تبدیلیاں جمہوریت کے اندر ایک صحت مند سیاسی ارتقا کی علامت ہیں یا پھر ووٹر کے اعتماد اور انتخابی مینڈیٹ کی تدریجی کمزوری؟ اگر سیاسی جماعتیں اور سیاست دان اس رجحان کو معمول بنا دیتے ہیں تو مستقبل میں انتخابات نظریات کی جنگ کے بجائے محض سیاسی کھلاڑیوں کی خرید و فروخت کا مقابلہ بن سکتے ہیں۔
بھارت کی جمہوریت اب ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں سیاسی وفاداریوں کی یہ مسلسل نیلامی صرف حکومتوں کی تشکیل کا مسئلہ نہیں رہی، بلکہ یہ سوال بن چکی ہے کہ عوام کے ووٹ کی اصل قدر کیا ہے۔ جب وفاداریاں بدلنا استثنا کے بجائے معمول بن جائے تو جمہوریت کی روح بھی ایک نئے امتحان سے گزرنے لگتی ہے


