Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومامریکہنائن الیون: خالد شیخ محمد کی سزا کم کرنے کا معاہدہ مسترد،...

ٹرینڈنگ

نائن الیون: خالد شیخ محمد کی سزا کم کرنے کا معاہدہ مسترد، سزائے موت برقرار رہے گی

نائن الیون حملوں کے مبینہ مرکزی منصوبہ ساز خالد شیخ محمد اور ان کے دو ساتھیوں کی امریکی حکومت سے سزا میں نرمی کے بدلے اعترافِ جرم کی پیشکش پر مبنی معاہدہ وفاقی اپیلز کورٹ نے مسترد کر دیا ہے۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے دسمبر 2024 میں جو معاہدہ ختم کیا تھا وہ اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر کیا گیا۔
واضح رہے کہ خالد شیخ محمد، ولید محمد بن عطاش اور مصطفیٰ الہوساوی گزشتہ دو دہائیوں سے گوانتاناموبے میں قید ہیں۔ ان پر 11 ستمبر 2001 کے حملوں میں 2976 افراد کے قتل، دہشتگردی، ہائی جیکنگ، اور جنگی جرائم سمیت کئی الزامات ہیں۔
سنہ 2023 میں ان تینوں ملزمان نے امریکی حکومت سے معاہدہ کیا تھا کہ وہ تمام الزامات قبول کرنے کے بدلے سزائے موت سے بچ کر عمر قید پر راضی ہیں لیکن وزیر دفاع نے یہ معاہدہ ختم کر دیا تھا۔
معاہدے کے تحت اگر عدالت اعتراف جرم قبول کر لیتی تو ایک فوجی جیوری تشکیل دی جاتی جس کے سامنے ثبوت پیش کیے جاتے اور متاثرہ خاندانوں کو بیانات دینے اور ملزمان سے سوالات کرنے کی اجازت دی جاتی۔ استغاثہ کا مؤقف تھا کہ اگر سزائے موت ختم کر دی گئی تو یہ فیصلہ عوامی مفاد اور انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہوگا۔


تاہم عدالت نے حکومت کا مؤقف درست تسلیم کرتے ہوئے معاہدے کو کالعدم قرار دے دیا جس کے بعد ملزمان پر سزائے موت کا مقدمہ جاری رہے گا۔
حملے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین نے حکومت کی جانب سے معاہدے پر عدم شفافیت اور تاخیر پر شدید ردعمل دیا۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس انصاف کا موقع تھا مگر اس نے مایوس کیا۔
متاثرہ خاتون ٹیرے سٹارڈا نے کہا یہ خالد شیخ محمد اور اس کے ساتھیوں کی جیت ہے۔
خالد شیخ محمد کو مارچ 2003 میں راولپنڈی سے گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں مبینہ طور پر سی آئی اے کی خفیہ جیلوں میں بدترین جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس میں 183 مرتبہ واٹر بورڈنگ اور بے ہوشی تک مارپیٹ شامل تھی۔2006میں انہیں گوانتانامو منتقل کیا گیا۔

بن عطاش پر الزام ہے کہ وہ القاعدہ کے ہائی جیکرز کے لیے سفری سہولتیں فراہم کرتے رہے جبکہ الہوساوی پر نائن الیون کے لیے مالی معاونت، اکاؤنٹس مینجمنٹ اور ٹریننگ اسکولز کی معلومات جمع کرنے کے الزامات ہیں۔ دونوں کو 2003 میں گرفتار کیا گیا لیکن انہیں بھی 2006 میں گوانتانامو منتقل کیا گیا۔
قانونی ماہرین کے مطابق ان مقدمات میں سی آئی اے کی جانب سے کیے گئے مبینہ تشدد نے ان مقدمات کو روایتی امریکی عدالتی نظام کے تحت چلانا مشکل بنا دیا ہے جس کے باعث ٹرائل میں کئی برسوں سے تاخیر جاری ہے۔

مزید پڑھیں