Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومامریکہڈالر کی عالمی “لائف لائن” بڑھانے پر غور، فیڈرل ریزرو میں بڑا...

ٹرینڈنگ

ڈالر کی عالمی “لائف لائن” بڑھانے پر غور، فیڈرل ریزرو میں بڑا بحثی موڑ — عالمی مالیاتی نظام پر خدشات بڑھ گئے

ڈالر کی عالمی “لائف لائن” بڑھانے پر غور، فیڈرل ریزرو میں بڑا بحثی موڑ — عالمی مالیاتی نظام پر خدشات بڑھ گئے۔ امریکی فیڈرل ریزرو کے بعض عہدیداروں نے ایک اہم تجویز پیش کی ہے جس کے تحت دنیا کے بڑے مرکزی بینکوں کے ساتھ امریکی ڈالر کی “سوئپ لائنز” کو مزید مدت کے لیے بڑھایا جا سکتا ہے تاکہ عالمی مالیاتی استحکام کو برقرار رکھا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق یہ بحث حالیہ اجلاس کے ریکارڈ میں سامنے آئی ہے، جس میں کہا گیا کہ امریکہ کی جانب سے دی جانے والی یہ ڈالر سپورٹ لائنز عالمی بینکنگ سسٹم کے لیے ایک اہم حفاظتی ڈھال کی حیثیت رکھتی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی معیشت شدید دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ یہ سوئپ لائنز دراصل امریکہ اور پانچ بڑے مرکزی بینکوں کے درمیان قائم ایک مالیاتی انتظام ہے، جس کے تحت ضرورت پڑنے پر ڈالر فراہم کیے جاتے ہیں تاکہ بین الاقوامی مالیاتی نظام میں لیکویڈیٹی یعنی نقدی کی کمی نہ ہو۔ 2008 کے مالیاتی بحران کے بعد یہ نظام عالمی بینکاری کے لیے ایک بنیادی ستون بن چکا ہے۔ اجلاس میں ہونے والی بحث ایسے وقت سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں معاشی غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے، توانائی کی قیمتیں تیزی سے اوپر جا رہی ہیں اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے عالمی منڈیوں کو مزید غیر مستحکم کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی نے توانائی اور مالیاتی دونوں منڈیوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جس کے باعث سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھ رہے ہیں کہ عالمی مالیاتی نظام کہیں جھٹکوں کا شکار نہ ہو جائے۔ اسی پس منظر میں یہ سوال بھی زیرِ بحث ہے کہ کیا دنیا اب بھی مکمل طور پر امریکی مالیاتی ڈھانچے پر انحصار کر سکتی ہے یا مستقبل میں متبادل نظاموں کی ضرورت بڑھ جائے گی۔ فیڈرل ریزرو کے اندر جاری یہ بحث بظاہر تکنیکی نوعیت کی ہے، لیکن ماہرین کے مطابق اس کے اثرات عالمی معیشت، بین الاقوامی تجارت اور کرنسی مارکیٹس پر گہرے ہو سکتے ہیں کیونکہ امریکی ڈالر آج بھی عالمی تجارت کی “ریڑھ کی ہڈی” سمجھا جاتا ہے۔ حتمی فیصلہ ابھی نہیں ہوا، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ سہولت بڑھائی جاتی ہے تو یہ عالمی مالیاتی نظام میں تسلسل اور اعتماد کو برقرار رکھنے کی ایک بڑی کوشش ہو گی، جبکہ اس میں تاخیر یا ردعمل کی صورت میں مارکیٹ میں غیر یقینی کیفیت مزید بڑھ سکتی ہے۔

مزید پڑھیں