پتھروں میں دفن ہوگی کاربن، نکلے گا صاف ایندھن — سائنسدانوں کا ایسا انکشاف جسے ماحولیاتی دنیا میں دوہری فتح قرار دیا جا رہا ہے
دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے نئی ٹیکنالوجیوں کی تلاش جاری ہے، لیکن سائنسدانوں کی تازہ تحقیق نے ایک ایسا راستہ دکھایا ہے جسے ماہرین “دوہری کامیابی” قرار دے رہے ہیں۔ تحقیق کے مطابق بعض مخصوص چٹانوں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرکے مستقل طور پر محفوظ کی جا سکتی ہے، جبکہ اسی عمل کے دوران ہائیڈروجن گیس پیدا ہونے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق زمین میں موجود الٹرامیفک اور آہن سے بھرپور چٹانیں جب پانی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے ساتھ مخصوص کیمیائی عمل سے گزرتی ہیں تو کاربن مستقل معدنی شکل اختیار کر کے پتھر کا حصہ بن جاتا ہے۔ اسی دوران ہائیڈروجن پیدا ہونے کی بھی نشاندہی ہوئی ہے، جو مستقبل میں صاف توانائی کا اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔ سائنسی حلقوں میں اس پیش رفت کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ ایک طرف فضا سے گرین ہاؤس گیس کم ہو گی اور دوسری طرف ایسا ایندھن حاصل ہو سکتا ہے جو جلنے پر کاربن پیدا نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ماہرین اسے ماحولیاتی بحران کے خلاف “دوہرا وار” قرار دے رہے ہیں۔ تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ دنیا کے مختلف خطوں میں ایسی چٹانیں بڑی مقدار میں موجود ہیں۔ اگر اس عمل کو صنعتی پیمانے پر کامیابی سے نافذ کیا گیا تو نہ صرف کاربن کے اخراج میں کمی لائی جا سکے گی بلکہ توانائی کے شعبے میں بھی ایک نئی تبدیلی جنم لے سکتی ہے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اسے وسیع پیمانے پر استعمال کے قابل بنانے کے لیے مزید تجربات اور سرمایہ کاری درکار ہوگی، تاہم ابتدائی نتائج نے سائنسی برادری کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔ تجزیہ: اگر مستقبل میں یہ طریقہ معاشی طور پر قابلِ عمل ثابت ہو جاتا ہے تو دنیا پہلی بار ایک ایسے نظام کے قریب پہنچ سکتی ہے جو بیک وقت فضا سے کاربن نکالے، اسے لاکھوں برس کے لیے پتھروں میں قید کرے اور ساتھ ہی صاف ایندھن بھی پیدا کرے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اسے ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف ممکنہ طور پر انقلابی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔


