پاکستان میں فیمینزم تصادم سے مفاہمت تک جنوبی ایشیا کے تقابلی تناظر میںتحریر ماریہ صدف
جنوبی ایشیا اس وقت صنفی مساوات (Gender Equality) کے حوالے سے ایک پیچیدہ مگر بدلتے ہوئے دور سے گزر رہا ہے۔ اس خطے میں فیمینزم صرف ایک سماجی تحریک نہیں بلکہ ایک وسیع بیانیاتی، ثقافتی، پالیسی اور ادارہ جاتی مکالمہ بن چکا ہے۔ تاہم اس مکالمے کی نوعیت ہر ملک میں مختلف ہے — کہیں یہ اصلاحات کی زبان میں آگے بڑھ رہا ہے اور کہیں یہ تصادم کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
پاکستان میں فیمینزم اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اسے محض حقوق کی بحث نہیں بلکہ ایک قومی مکالمہ بننے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف روایتی طبقہ ہے جو تبدیلی کو ثقافتی بقا اور خاندانی نظام کے لیے خطرہ سمجھتا ہے، اور دوسری طرف مزاحمتی یا ایکٹوسٹ گروہ ہے جو فوری اور سخت تبدیلی کا خواہاں ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ دونوں اطراف اکثر ایک دوسرے کو سننے کے بجائے ایک دوسرے کے خلاف صف آرا نظر آتے ہیں۔
روایتی طبقے کی سوچ کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ پاکستان جیسے معاشرے میں مذہب، ثقافت اور خاندانی نظام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایک بڑا طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ عورت کے کردار میں تبدیلی اگر تیز رفتاری سے آئے تو یہ سماجی توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اکثر فیمینزم کو تحفظات کے ساتھ دیکھتا ہے، اور بعض اوقات اسے مغربی ثقافتی اثرات سے جوڑ دیتا ہے۔ مسئلہ مذہب نہیں بلکہ اس کی وہ مخصوص تشریح ہے جس میں تبدیلی کو خطرہ سمجھا جاتا ہے، نہ کہ ارتقاء۔
دوسری طرف مزاحمتی گروہ کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اکثر جذباتی زبان اور کنفرنٹیشنل بیانیے کو اپناتا ہے۔ سوشل میڈیا نے اس رجحان کو مزید تیز کر دیا ہے، جہاں پیچیدہ سماجی مسائل فوری ردِعمل اور نعرے بازی میں بدل جاتے ہیں۔ نتیجتاً مکالمہ کم اور محاذ آرائی زیادہ ہو جاتی ہے۔
اگر جنوبی ایشیا کے تناظر میں دیکھا جائے تو 2025 کے عالمی صنفی مساوات (Global Gender Gap Index 2025) کے مطابق پاکستان خطے میں سب سے کمزور کارکردگی رکھنے والے ممالک میں شامل ہے اور مجموعی درجہ بندی میں بھی آخری پوزیشن کے قریب آتا ہے۔ اس کے مقابلے میں بنگلہ دیش اور نیپال نسبتاً بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں، جبکہ بھارت بھی مختلف سماجی اور معاشی اشاریوں میں پاکستان سے آگے نظر آتا ہے۔ یہ فرق صرف اعداد و شمار کا نہیں بلکہ ادارہ جاتی، تعلیمی اور معاشرتی ڈھانچوں کے فرق کا عکاس ہے۔
بھارت میں فیمینزم نسبتاً زیادہ متنوع ہے۔ ایک طرف مضبوط ایکٹوسٹ تحریکیں ہیں جو سڑکوں اور احتجاج کی سیاست سے جڑی ہیں، اور دوسری طرف ایک مضبوط ادارہ جاتی اور اصلاحاتی فریم ورک ہے جو مکالمے کے ذریعے تبدیلی لاتا ہے۔ یہاں تصادم بھی موجود ہے، مگر مکالمے کے راستے نسبتاً زیادہ کھلے ہیں۔
بنگلہ دیش میں فیمینزم زیادہ تر ترقیاتی (Development-Oriented) ماڈل کے تحت آگے بڑھا ہے۔ خواتین کی تعلیم، مائیکرو فنانس، اور ورک فورس میں شمولیت نے اس تحریک کو عملی سمت دی ہے۔ یہاں بیانیہ کم اور نتائج زیادہ اہم ہیں، اس لیے تصادم نسبتاً کم اور اصلاحی عمل زیادہ نظر آتا ہے۔
نیپال میں فیمینزم کا سفر زیادہ تر آئینی اور قانونی اصلاحات کے ذریعے ہوا ہے۔ کوٹہ سسٹم اور سیاسی نمائندگی نے خواتین کو ادارہ جاتی سطح پر جگہ دی ہے۔ یہاں بھی مکالمہ اور پالیسی ریفارمز کا عنصر زیادہ غالب ہے، جبکہ سماجی سطح پر مسائل اپنی جگہ موجود ہیں۔
اگر ان سب کا پاکستان سے تقابل کیا جائے تو واضح فرق سامنے آتا ہے۔ پاکستان میں فیمینزم زیادہ تر دو انتہاؤں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ ایک طرف مکمل مزاحمت ہے، دوسری طرف فوری اور جارحانہ تبدیلی کی خواہش۔ اس بیچ کا وہ خاموش طبقہ، جو دراصل معاشرے کی اکثریت ہے، اکثر نظر انداز ہو جاتا ہے — حالانکہ اصل تبدیلی اسی طبقے کے ذریعے ممکن ہوتی ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہاں بیانیہ “حقوق بمقابلہ ثقافت” کی جنگ بن گیا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ثقافت اور حقوق ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ اگر فریم درست ہو تو دونوں ساتھ چل سکتے ہیں۔
پاکستان میں ضرورت اس بات کی ہے کہ فیمینزم کو تصادم کی زبان سے نکال کر مفاہمت اور مکالمے کی طرف لایا جائے۔ یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ تبدیلی صرف نعرے لگانے سے نہیں آتی، اور نہ ہی صرف مزاحمت سے رکتی ہے۔ تبدیلی ایک تدریجی عمل ہے جو اعتماد، گفتگو اور مشترکہ ذمہ داری سے پروان چڑھتا ہے۔
اسی طرح مردوں کو اس مکالمے سے باہر رکھنا بھی ایک بڑی غلطی ہوگی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ وہی معاشرے کامیاب ہوئے ہیں جہاں تبدیلی اجتماعی ذمہ داری بنی، نہ کہ کسی ایک جنس کی لڑائی۔
آنے والے برسوں میں پاکستان میں خواتین کی تعلیم، روزگار اور قانونی تحفظ میں بتدریج بہتری کے امکانات موجود ہیں۔ مگر یہ بہتری اسی وقت پائیدار ہوگی جب اس کا بیانیہ تصادم سے نکل کر مفاہمت کی طرف آئے گا۔
جنوبی ایشیا کا تجربہ ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ جہاں مکالمہ غالب ہو، وہاں تبدیلی زیادہ دیرپا اور کم تکلیف دہ ہوتی ہے، اور جہاں صرف تصادم ہو، وہاں ردعمل بھی اتنا ہی شدید ہوتا ہے۔
ماریہ صدف


