Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومکالم / بلاگنیویارک کی آمدِ بہار، روشنی، روانی اور خاموش اداسی کے درمیان بدلتی...

ٹرینڈنگ

نیویارک کی آمدِ بہار، روشنی، روانی اور خاموش اداسی کے درمیان بدلتی ہوئی زمین

نیویارک کی آمدِ بہار، روشنی، روانی اور خاموش اداسی کے درمیان بدلتی ہوئی زمین
آفاق فاروقی

نیویارک: موسم بدل رہا ہے، ہوا میں ایک نرم سی لرزش ہے، جیسے زمین نے اپنی تھکن اتار کر دوبارہ سانس لینا شروع کر دیا ہو۔ درختوں پر نئے پتے نکل آئے ہیں، ہرے، تروتازہ، ایسے جیسے وقت نے ایک لمحے کے لیے دنیا کو دوبارہ جوان کر دیا ہو۔
شمال کی سمت جہاں پہاڑ کھڑے ہیں، وہاں سے اترتا ہوا برف کا پانی ندیوں میں گرتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے زمین خود بول رہی ہو، جیسے وہ پانی خاموش نہیں بلکہ کسی اندرونی سرشاری میں ڈوب کر گیت گا رہا ہو۔ آبشاروں کی گونج میں ایک عجیب سی زندگی ہے، وہ چیختی نہیں، مگر جیتی ضرور ہے، اور ہر گرنے والا قطرہ ایک نئے جنم کی کہانی سناتا ہے۔
پتے ہوا میں جھومتے ہیں تو صرف ہلتے نہیں، جیسے کوئی ان کے اندر خوشی رکھ کر انہیں چھوڑ گیا ہو۔ پہاڑوں سے اترتا پانی زمین کو چھوتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے وہ دیوانہ وار رقص کر رہا ہو، جیسے اسے اپنی منزل کا نہیں بلکہ اپنے سفر کا نشہ ہو۔
مگر اسی رقص کے اندر ایک خاموش حقیقت چھپی ہوئی ہے، جسے یہ سب مناظر محسوس تو کرتے ہیں مگر سمجھ نہیں سکتے۔
یہ پتے، یہ پانی، یہ ہوا، سب اپنی اپنی سرشاری میں مگن ہیں، جیسے زندگی ہمیشہ اسی حالت میں رہنی ہے۔ انہیں نہیں معلوم کہ ہر بہار کے اندر خزاں کا ایک چھپا ہوا وعدہ بھی ہوتا ہے۔ ایک وقت آتا ہے جب یہی پتے، جو آج ناچ رہے ہیں، زمین پر بکھر جاتے ہیں۔ یہی درخت، جو ابھی سبز خوابوں سے بھرے ہیں، ایک دن ننگے کھڑے رہ جاتے ہیں۔ یہی پانی، جو آج سرشاری میں بہہ رہا ہے، کسی اور موسم میں برف بن کر جم بھی جاتا ہے۔
یہی زندگی ہے، جو ہمیشہ اپنے اندر ایک دوسرا چہرہ چھپائے رکھتی ہے۔
اور شاید انسان بھی اسی منظر کا حصہ ہے۔ وہ پیدا ہوتا ہے، بڑھتا ہے، دوڑتا ہے، خواب دیکھتا ہے، اور اکثر اس یقین میں رہتا ہے کہ یہ سب ہمیشہ ایسے ہی رہے گا۔ جوانی میں اسے اپنے وقت کی نرمی کا اندازہ نہیں ہوتا، نہ یہ احساس کہ ہر خوشی کے اندر ایک غیر محسوس سی کمی بھی موجود ہے، جو وقت کے ساتھ واضح ہوتی جاتی ہے۔
امریکہ بھی اسی موسم کی طرح بدل رہا ہے۔ کبھی یہ زمین ایک نئے پن کی علامت تھی، جہاں امکانات زیادہ اور رکاوٹیں کم محسوس ہوتی تھیں، مگر اب یہاں بھی وقت ایک مختلف رفتار سے چل رہا ہے۔ ہر چیز موجود ہے، مگر ہر چیز پہلے جیسی بے فکری کے ساتھ نہیں۔ ترقی ہے، مگر اس کے ساتھ ایک غیر مرئی تھکن اور اضمحلال بھی ہے۔
لوئر مڈل کلاس اور متوسط طبقے کے لوگ، جو کبھی انہی سمر کے دنوں میں پہاڑوں، جھیلوں اور آبشاروں کی طرف نکل جایا کرتے تھے، اب اکثر اپنی خواہشوں اور اپنی استطاعت کے درمیان کھڑے رہ جاتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ فاصلہ زیادہ نہیں، مگر راستہ مہنگا ہو چکا ہے۔
زندگی کا حساب اب صرف وقت کا نہیں رہا، قیمتوں کا بھی ہو گیا ہے۔
ایندھن، خوراک، ٹول، رہائش، ہر چیز ایک ایسے دائرے میں بند ہوتی جا رہی ہے جہاں انسان حرکت تو کر سکتا ہے مگر آزاد نہیں۔ دکانوں میں رش ہے، سڑکوں پر زندگی ہے، مگر ہر چہرے کے پیچھے ایک خاموش سوال اور جھنجھلاہٹ موجود ہے: “کیا یہ سب واقعی کافی ہے؟”
یہی وہ مقام ہے جہاں خوبصورتی اور اداسی ایک دوسرے میں گھلنے لگتی ہیں۔
پہاڑ اب بھی ویسے ہی ہیں، جھیلیں اب بھی ویسی ہی خاموش، آبشاریں اب بھی اسی شدت سے گرتی ہیں، اور سمر اب بھی آتا ہے، مگر انسان بدل چکا ہے۔ وہ اب مناظر کو دیکھ کر صرف خوش نہیں ہوتا، وہ سوچتا بھی ہے، ٹھہرتا بھی ہے، اور کبھی کبھی بغیر کہے اداس بھی ہو جاتا ہے۔
کیونکہ اسے اب یہ احساس ہونے لگا ہے کہ ہر موسم صرف موسم نہیں ہوتا، وہ وقت کی ایک ایسی زبان ہے جو خاموشی سے یہ بتاتی رہتی ہے کہ کچھ بھی ہمیشہ کے لیے نہیں رہتا۔

مزید پڑھیں