میرا قصور کیا ہے؟”
میرا قصور کیا ہے؟”
عامر فاروقی
یہ سوال نہیں رہا، یہ پاکستان کے عام ووٹر کا روزمرہ کا مکالمہ بن چکا ہے،جیسے کوئی شخص ہر الیکشن کے بعد اپنی جیب ٹٹولے اور حیران ہو کہ پیسے پھر بھی غائب ہیں، حالانکہ خرچ اس نے “خوابِ تبدیلی” پر کیا تھا
کہانی شروع ہوتی ہے ایک بچے سے،1977 کے مارشل لا کے زمانے میں عمر دس سال،پھر سیاسی تربیت شروع ہوتی ہے، مگر اسکول میں نہیں،سڑک پر، ریڈیو پر، جلسوں کے نعروں میں۔ کبھی “مردِ مومن مردِ حق” کی بارش، کبھی کسی کو نجات دہندہ اور کسی کو قومی مسئلہ بنا دینے کا کارخانہ، اور بچہ بڑا ہوتا ہے تو اسے پتہ چلتا ہے کہ سچ اتنا سادہ نہیں جتنا نعرہ ہوتا ہے
پھر ووٹ کا زمانہ آتا ہے، اور ووٹر سمجھتا ہے کہ اب وہ بادشاہ ہے، اصل مزاح تو یہاں شروع ہوتا ہے۔
پہلے انتخاب میں امید کہ شاید اس بار کوئی نیا راستہ نکلے گا، نتیجہ: وہی پرانا نام، بس جھنڈا بدل گیا، اسے معاملے کو مذید صراحت سے سمجھنے کے لیے ضروری ہے ایک پاکستانی کے سیاسی دکھ کا ذکر لازمی کیا جائے جو اس نے سوشل میڈیا پر شئیر کیا ہے ، وہ کہتا ہے ، پیپلزپارٹی ہو ن لیگ ، ق یا تحریک انصاف ،یا ضیاالحق کا غیر جماعتی نظام میرے مقدر میں ہر بار جعفر خان لغاری ہی میرے حلقے کا رکن اسمبلی منتخب ہوتا ہے، جعفر خان لغاری جس جماعت میں جاتا ہے ، ہم سمجھ جاتے ہیں اس بار ہمیں اس پارٹی سے چھتِر لگوانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، مطلب یہ ہے پوسٹر بدلتا ہے چہرہ نہیں بدلتا نہ نظام بدلتا ہے
مطلب کبھی سائیکل، کبھی شیر، کبھی تیر، کبھی بلّا—مگر اندر کا کھیل ایک ہی: وہی مقامی طاقت، وہی بااثر خاندان، وہی پرانا سیاسی کاروبار
اور حیرت یہ ہے کہ نظام امیدوار بھی بدلنے سے ڈرتا ہے ، خوفزدہ ہے ، بس پارٹی بدل دیتا ہے،جیسے دکاندار ہر سال بورڈ بدل دے اور دعویٰ کرے کہ اب دکان نئی ہو گئی ہے
یہاں جاگیردارانہ سیاست اپنا اصل شو دکھاتی ہے،ابنِ خلدون اگر آج ہوتا تو شاید کہتا، “میں نے چکر دیکھا تھا، مگر تم لوگوں نے تو اسے رولر کوسٹر بنا دیا ہے۔” طاقت ایک خاندان کے گرد، ووٹ ایک روایت کے گرد، اور عوام ایک امید کے گرد گھومتے رہتے ہیں
پھر تعلیم یافتہ طبقہ آتا ہے،وہ جو باہر پڑھ کر آتا ہے، بڑی بڑی کتابیں، بڑے بڑے خیالات،مگر وطن واپس آ کر اسے پتہ چلتا ہے کہ نظریات کی ڈگری اور سیاست کا بازار دو الگ دنیا ہیں، اور عجیب بات یہ ہے کہ اکثر وہ بھی اسی بازار کا حصہ بن جاتا ہے، جس پر وہ باہر سے تبصرہ کر رہا ہوتا تھا
اور ڈائسپورا؟ وہ تو اور بھی دلچسپ ہے، ایک ہاتھ میں غیر ملکی پاسپورٹ، دوسرے ہاتھ میں قومی سیاست کا غصہ، وہ بھی انہی خیموں میں بٹا ہوا، انہی بحثوں میں الجھا ہوا، جیسے فاصلے نے سوچ نہیں بدلی، صرف لہجہ اونچا کر دیا ہے
پھر ہر دور میں ایک نیا جملہ آتا ہے
“یہ اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر آیا ہے”
اور پھر اگلے ہی مرحلے میں وہی شخص نئے کندھوں کی تلاش میں ہوتا ہے
یوں لگتا ہے جیسے سیاست کوئی نظریہ نہیں، ایک مسلسل ڈرامہ ہے بسااوقات جس کے اداکار بھی نہیں بدلے جاتے اور کہانی نویس تو خیر سے ہے ہی ایک
اب سوال یہ نہیں رہا کہ کون اچھا ہے کون برا، سوال یہ ہے کہ کیا واقعی انتخاب ہے بھی یا صرف ایک ایسا مینو ہے جس میں کھانے بدلتے رہتے ہیں مگر ذائقہ ہمیشہ ایک جیسا رہتا ہے؟
آخر میں وہی سوال واپس آتا ہے ، خاموش بھی اور چیختا ہوا بھی
میرا قصور کیا ہے؟
اور شاید اس کا سب سے طنزیہ جواب یہ ہے کہ
قصور یہ ہے کہ ہم ہر بار سمجھ لیتے ہیں کہ اس بار کہانی بدل جائے گی،جبکہ کہانی ہر بار ہمیں بدل دیتی ہے


