Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومکالم / بلاگمعیشت کے دہانے پر کھڑی ریاست: نیا بجٹ امید کم، بوجھ زیادہ،...

ٹرینڈنگ

معیشت کے دہانے پر کھڑی ریاست: نیا بجٹ امید کم، بوجھ زیادہ، اور مستقبل غیر یقینی

معیشت کے دہانے پر کھڑی ریاست: نیا بجٹ امید کم، بوجھ زیادہ، اور مستقبل غیر یقینی۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور عالمی بینک سے وابستہ ماہرین کے تجزیوں کے مطابق پاکستان کی موجودہ معیشت اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں استحکام اور بحران کے درمیان فاصلہ انتہائی کم ہو چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق آنے والا بجٹ بظاہر اصلاحات اور مالی نظم و ضبط کے نام پر پیش کیا جاتا ہے مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ ریاست پہلے ہی شدید قرضوں، محدود مالی گنجائش اور بڑھتے ہوئے خسارے کے دباؤ میں ہے، جس کے باعث نیا مالی منصوبہ زیادہ تر بوجھ میں اضافے کا ذریعہ بنتا دکھائی دیتا ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ بنیادی مسئلہ صرف آمدنی اور اخراجات کا فرق نہیں بلکہ نظامی کمزوریاں ہیں، جن میں انتظامی نااہلی، کمزور ادارہ جاتی ڈھانچہ، پالیسیوں کا بار بار بدلنا اور احتساب کے مؤثر نظام کی کمی شامل ہے۔ ان کے مطابق جب تک فیصلہ سازی میں شفافیت اور تسلسل نہیں آتا، اس وقت تک کسی بھی بجٹ کا اثر وقتی ریلیف سے آگے نہیں جا سکتا۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے منسلک تجزیہ کار بارہا یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ٹیکس نظام کی کمزور وصولی، محدود دائرہ کار اور غیر رسمی معیشت کا بڑا حجم ریاستی آمدنی کو مسلسل دبا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف حکومتی اخراجات، قرضوں کی ادائیگیاں اور سبسڈی کا دباؤ مالی گنجائش کو مزید محدود کر رہا ہے۔ عالمی ماہرین کے مطابق اگر ساختی اصلاحات نہ کی گئیں تو معیشت مسلسل قرض، مہنگائی اور مالی دباؤ کے دائرے میں ہی گھومتی رہے گی، اور معاشی استحکام حاصل کرنا ایک طویل اور مشکل عمل ثابت ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں