لبنان میں زمینی کارروائیوں کی توسیع، خطے میں جنگی کشیدگی خطرناک حد تک بڑھنے لگی—عالمی تشویش میں اضافہ
اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ لبنان کے جنوبی علاقوں میں اس کی زمینی کارروائیاں مزید وسیع کی جا رہی ہیں، جس کے بعد خطے میں جاری کشیدگی ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ فوجی حکام کے مطابق یہ پیش قدمی جنوبی لبنان میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے اور سکیورٹی اہداف کے حصول کے لیے کی جا رہی ہے۔ اسرائیل کی فوج کے مطابق اس آپریشن کے دائرے کو جنوبی لبنان کے مزید علاقوں تک بڑھایا جا رہا ہے، جہاں پہلے سے جاری کارروائیوں میں زمینی دستے بتدریج پیش قدمی کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سرحدی علاقوں میں جھڑپیں اور فضائی حملے پہلے ہی خطے کو عدم استحکام کا شکار بنا چکے ہیں۔ لبنان کے جنوبی علاقوں میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق گنجان آباد علاقوں سے شہریوں کی نقل مکانی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ سرحدی قصبوں میں خوف اور غیر یقینی کی فضا گہری ہوتی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق یہ پیش رفت وسیع تر خطے میں جاری تنازع کا حصہ ہے، جو نہ صرف سرحدی سلامتی بلکہ توانائی، تجارت اور عالمی سفارت کاری پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ زمینی کارروائیوں کی توسیع اس بات کی علامت ہے کہ تنازع وقتی مرحلے سے نکل کر زیادہ گہرے اور طویل بحران کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر موجودہ صورتحال میں سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو یہ کشیدگی مزید پھیل سکتی ہے، جس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ اور عالمی منڈیوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں


