عالمی پناہ کی پالیسیوں میں بڑی تبدیلی: برطانیہ کو روانڈا کیس میں قانونی ریلیف، امریکہ کے تیسرے ملک ملک بدری کے معاہدے بھی عالمی بحث کا مرکز
خبر: عالمی سطح پر سیاسی پناہ اور ہجرت کی پالیسیوں کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ایک جانب برطانیہ کے متنازعہ روانڈا پناہ کے منصوبے پر قانونی تنازعہ اپنے اختتام کے قریب پہنچ گیا ہے، تو دوسری جانب امریکہ کی جانب سے “تیسرے ملک پناہ اور ملک بدری” معاہدوں کا ماڈل بھی ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ لنڈن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ایک بین الاقوامی ثالثی عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ برطانیہ کو سابق حکومت کے روانڈا پناہ کے منصوبے کی منسوخی کے بعد روانڈا کو مالی طور پر مزید ادائیگی کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ منصوبہ 2022 میں اس وقت کے وزیر اعظم بورس جانسن کے دور میں طے پایا تھا، جس کے تحت برطانیہ میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے تارکین وطن کو روانڈا منتقل کیا جانا تھا تاکہ ان کی سیاسی پناہ کی درخواستوں کا فیصلہ وہاں کیا جائے۔ بعد ازاں یہ منصوبہ قانونی چیلنجز، انسانی حقوق کے اعتراضات اور سیاسی تبدیلیوں کے باعث مؤثر طور پر روک دیا گیا، اور موجودہ حکومت نے اسے مکمل طور پر ختم کر دیا۔ اس فیصلے کے بعد روانڈا نے معاہدے کی مالی خلاف ورزی کا دعویٰ کرتے ہوئے ہرجانے کا مطالبہ کیا تھا، تاہم عدالت نے برطانیہ کے مؤقف کو درست قرار دیتے ہوئے یہ دعویٰ مسترد کر دیا۔ دوسری جانب عالمی ہجرت کی پالیسی کے میدان میں امریکہ کی سابقہ اور موجودہ انتظامیہ کے تحت “تیسرے ملک پناہ” ماڈل ایک بار پھر زیر بحث ہے۔ اس پالیسی کے تحت بعض تارکین وطن یا سیاسی پناہ کے درخواست گزاروں کو امریکہ کے بجائے دیگر ممالک میں بھیج کر وہاں ان کے کیسز نمٹانے کی حکمت عملی اپنائی جاتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس ماڈل کے تحت مختلف ادوار میں گوئٹے مالا، ہونڈوراس اور ایل سلواڈور جیسے لاطینی امریکی ممالک کے ساتھ معاہدے کیے گئے، جن میں بعض معاہدوں کے تحت امریکہ میں داخل ہونے والے افراد کے پناہ کے کیسز ان ممالک میں منتقل کرنے کی اجازت دی گئی۔ تاہم ان پالیسیوں کو وقت کے ساتھ سیاسی تبدیلیوں، قانونی چیلنجز اور انسانی حقوق کے خدشات کے باعث یا تو معطل کر دیا گیا یا ان پر عملدرآمد محدود ہو گیا۔ ماہرین کے مطابق برطانیہ اور امریکہ دونوں کی ان پالیسیوں کا بنیادی مقصد غیر قانونی ہجرت کے دباؤ کو کم کرنا ہے، تاہم ان کے قانونی، سفارتی اور انسانی حقوق کے پہلو مسلسل عالمی بحث اور تنقید کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔


