طاقت ترقی اور خوشحالی مغرب سے مشرق منتقل ہورہی ہے ؟
طاقت ترقی اور خوشحالی مغرب سے مشرق منتقل ہورہی ہے ؟
تحریر عامر فاروقی
برٹنڈر رسل نے کبھی مشرق اور مغرب کے پسمنظر میں بحث کرتے ہوئے طویل مضمون لکھا تھا جس میں بنیادی بحث یہ تھی کہ مشرقی اقوام، خصوصاً چین، ہندوستان اور ایشیا کے دوسرے خطے، ایک طویل سیاسی و فکری جمود کے بعد بیدار ہو رہے ہیں اور مستقبل میں مغربی طاقتوں کے لیے ایک بڑے چیلنج کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ رسل اس مضمون میں صرف سیاسی تبدیلی کی بات نہیں کرتے بلکہ تہذیب، اخلاق، معیشت، تعلیم، سامراج اور انسانی اقدار پر بھی گفتگو کرتے ہیں
رسل کے مطابق انیسویں اور بیسویں صدی کے آغاز تک یورپی طاقتیں خود کو دنیا کی سب سے برتر تہذیب سمجھتی تھیں۔ برطانیہ، فرانس اور دیگر مغربی ممالک نے ایشیا اور افریقہ کے کئی خطوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ مغرب کے پاس جدید سائنس، صنعت، اسلحہ اور منظم حکومتیں تھیں، جبکہ مشرقی دنیا سیاسی طور پر کمزور، معاشی طور پر پسماندہ اور بیرونی قبضوں کا شکار تھی۔ اسی لیے مغرب کو یقین تھا کہ اس کی بالادستی ہمیشہ قائم رہے گی۔ مگر رسل کے خیال میں یہ تصور غلط تھا، کیونکہ کوئی بھی قوم ہمیشہ غلام یا کمزور نہیں رہتی
مضمون میں رسل خاص طور پر چین کی مثال دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ چین ایک قدیم اور عظیم تہذیب کا حامل ملک ہے جس نے ہزاروں برس تک علم، فلسفہ، نظمِ حکومت اور سماجی استحکام میں دنیا کی رہنمائی کی۔ اگرچہ ایک وقت ایسا آیا جب چین عسکری اور صنعتی میدان میں مغرب سے پیچھے رہ گیا، لیکن اس کے باوجود چینی قوم کے اندر تہذیبی اعتماد اور ذہنی صلاحیت باقی رہی۔ رسل سمجھتے تھے کہ جب چین جدید تعلیم، سائنس اور قومی شعور حاصل کر لے گا تو وہ دوبارہ ایک طاقتور قوم بن سکتا ہے
اسی طرح وہ ہندوستان کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ برطانوی راج نے اگرچہ ہندوستان پر سیاسی کنٹرول قائم کر لیا تھا، مگر ہندوستانی معاشرے میں آزادی کی خواہش مسلسل بڑھ رہی تھی۔ تعلیم یافتہ طبقہ، سیاسی تحریکیں اور قومی شعور اس بات کی علامت تھے کہ ہندوستان ہمیشہ کے لیے غلام نہیں رہے گا۔ رسل اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جب مشرقی اقوام اپنے وسائل، اپنی ثقافت اور اپنی اجتماعی طاقت کو پہچان لیں گی تو وہ مغربی سامراج کو چیلنج کریں گی
رسل مغرب پر بھی تنقید کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یورپ نے سائنس اور صنعت میں ترقی تو کی، مگر اس ترقی کے ساتھ ساتھ لالچ، جنگ، استحصال اور سامراج کو بھی فروغ دیا۔ مغربی طاقتیں کمزور قوموں کے وسائل لوٹتی رہیں، ان کی معیشتوں کو اپنے مفاد کے تابع بناتی رہیں اور اپنی تہذیب کو برتر ثابت کرنے کی کوشش کرتی رہیں۔ رسل کے نزدیک یہ رویہ غیر اخلاقی تھا اور بالآخر اس کے خلاف ردعمل پیدا ہونا فطری تھا
مضمون کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ رسل مشرقی تہذیب کی بعض اخلاقی خوبیوں کو مغرب سے بہتر سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مشرقی معاشروں میں خاندانی نظام، روحانیت، برداشت اور اجتماعی زندگی کی قدریں زیادہ مضبوط ہیں، جبکہ مغرب میں صنعتی ترقی کے باوجود انسان مادہ پرستی اور مقابلہ بازی کا شکار ہو گیا ہے۔ رسل یہ نہیں کہتے کہ مشرق مکمل طور پر مثالی ہے، بلکہ ان کا خیال ہے کہ اگر مشرق جدید سائنس اور تعلیم حاصل کر لے اور ساتھ ہی اپنی اخلاقی روایات کو برقرار رکھے تو وہ دنیا میں ایک متوازن اور زیادہ انسانی تہذیب پیش کر سکتا ہے
رسل کو یہ بھی خدشہ تھا کہ اگر مغرب نے اپنی سامراجی پالیسیوں کو ترک نہ کیا تو مستقبل میں مشرق اور مغرب کے درمیان شدید تصادم پیدا ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق طاقت کے زور پر دنیا کو ہمیشہ کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔ جب محکوم قوموں میں تعلیم، سیاسی شعور اور قومی اتحاد پیدا ہو جاتا ہے تو وہ آزادی کے لیے جدوجہد کرتی ہیں، اور آخرکار بڑی سلطنتیں بھی کمزور پڑ جاتی ہیں
مضمون کے اختتام میں رسل ایک طرح کی تنبیہ اور امید دونوں پیش کرتے ہیں۔ تنبیہ یہ کہ مغرب کو اپنی برتری کے غرور سے باہر نکلنا ہوگا، ورنہ دنیا میں بڑے سیاسی بحران پیدا ہوں گے۔ اور امید یہ کہ اگر مشرقی اور مغربی تہذیبیں ایک دوسرے سے سیکھیں، ایک دوسرے کا احترام کریں اور تعاون کا راستہ اختیار کریں تو دنیا زیادہ پُرامن اور متوازن بن سکتی ہے
آج کے دور میں دیکھا جائے تو رسل کی بہت سی باتیں درست محسوس ہوتی ہیں۔ چین ایک عالمی طاقت بن چکا ہے، ہندوستان معاشی اور سیاسی طور پر ابھر رہا ہے، اور ایشیا عالمی سیاست و معیشت کا اہم مرکز بنتا جا رہا ہے۔ اس لحاظ سے “Awakening of the East” صرف اپنے زمانے کا مضمون نہیں بلکہ مستقبل کی عالمی تبدیلیوں کی ایک گہری پیش گوئی بھی سمجھا جاتا ہے


