سپریم کورٹ میں “Cockroach Janta Party” کا معاملہ پہنچ گیا، چیف جسٹس نے وکیل کو جھاڑ پلادی
بھارتی سپریم کورٹ میں ایک غیر معمولی اور دلچسپ صورتحال اس وقت پیدا ہو گئی جب ایک وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ ایک مبینہ “ڈیجیٹل سیاسی گروہ” جسے “Cockroach Janta Party” کہا جا رہا ہے، اس کی سرگرمیوں کی عدالتی سطح پر تحقیقات کرائی جائیں۔ درخواست میں الزام لگایا گیا کہ یہ گروہ عدالت میں دیے گئے ریمارکس کو تجارتی بنیادوں پر استعمال کر رہا ہے، ان کے ٹریڈ مارک بنا رہا ہے اور سوشل میڈیا پر انہیں منافع کے لیے پھیلا رہا ہے۔ وکیل نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ مبینہ طور پر جعلی قانون ڈگریوں اور عدالتی گفتگو کے کمرشل استعمال جیسے معاملات بھی اس سرگرمی کا حصہ ہیں۔ چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سنجے کمار کانت نے اس درخواست پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے اسے فوری سماعت کے قابل نہیں سمجھا۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ اس نوعیت کی پٹیشن میں “کوئی سنگین یا فوری نوعیت کی ضرورت” نظر نہیں آتی۔ چیف جسٹس نے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے کو “اتنا جذباتی انداز میں نہ لیں” اور عدالت کا وقت اس نوعیت کی درخواستوں پر ضائع نہ کیا جائے۔ عدالتی ریمارکس کے بعد یہ معاملہ بھارتی قانونی اور سوشل میڈیا حلقوں میں زیر بحث ہے، جہاں اسے ایک طرف دلچسپ عدالتی جملہ قرار دیا جا رہا ہے تو دوسری طرف اسے غیر ضروری قانونی مداخلت کی مثال کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے


