Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومکالم / بلاگسندھ یا پاکستان کی محفوظ ترین پالیسی

ٹرینڈنگ

سندھ یا پاکستان کی محفوظ ترین پالیسی

سندھ یا پاکستان کی محفوظ ترین پالیسی
عامر ارائیں
ارب کی دیانت کھا جانے والے کو صرف نوکری سے نکال دینا شاید اس ملک میں کرپشن نہیں، بلکہ قابلیت کا سرکاری اعتراف سمجھا جاتا ہے، سندھ میں ایک فوڈ انسپکٹر پر دو ارب نو کروڑ 98 لاکھ غبن کرنے کا الزام لگا مگر نہ تحقیقات نہ مقدمہ نہ سزا بس نوکری سے برطرفی
عرصہ دراز سے خبریں آرہی ہیں سندھ کے محکمہ خوراک میں اربوں روپے کی گندم، سرکاری ذخائر اور مالی بے ضابطگیوں کے اسکینڈلز ایک بار پھر یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر اس ملک میں “سزا” اور “کارروائی” کے معنی کیا رہ گئے ہیں،کہیں 81 کروڑ کی گندم غائب ہوتی ہے، کہیں کروڑوں کے غبن پر افسر صرف برطرف کر دیے جاتے ہیں، اور کہیں اربوں کی خردبرد کے بعد بھی کہانی ایک نوٹیفکیشن، ایک شوکاز اور ایک تبادلے کے گرد گھومتی رہتی ہے
خبروں کے مطابق سندھ محکمہ خوراک میں بڑے پیمانے پر کرپشن، غبن اور گندم اسٹاک میں کمی کے الزامات پر متعدد فوڈ انسپکٹرز اور افسران کو ملازمت سے برطرف کیا گیا،بعض کیسز میں کروڑوں روپے کی کرپشن سامنے آئی، جبکہ محکمہ خود یہ کہتا رہا کہ قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف مقدمات بھی درج کیے جائیں گے
مگر اصل سوال یہاں سے شروع ہوتا ہے
اگر ایک فوڈ انسپکٹر،جو کوئی صنعتی شہنشاہ نہیں، کوئی عالمی بینک کا سربراہ نہیں، کوئی تیل کی ریاست کا بادشاہ نہیں،صرف ایک سرکاری عہدے پر بیٹھ کر اربوں روپے کی کرپشن کر سکتا ہے، تو پھر اس کے لیے “نوکری” آخر رہ کیا جاتی ہے؟ کیا وہ تنخواہ لینے دفتر آتا تھا یا ریاست کے خزانے کو ذاتی اے ٹی ایم سمجھ کر بیٹھا تھا؟
اس پر کہا جاتا ہے اپوزیشن یا میڈیا یا پھر ملکی دانشور ریاست حکومت پر بس تنقید ہی کرتے رہتے ہیں
کیونکہ جس ملک میں دو ارب کھانے والا صرف نوکری سے فارغ کیا جائے، وہاں غریب آدمی کا بجلی کا بل نہ بھرنا شاید قومی سلامتی کا مسئلہ سمجھا جاتا ہے
قانون کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جرم صرف “عہدہ کھونے” سے ختم نہیں ہوتا بلکہ احتساب، ریکوری، مقدمہ، سزا اور مثال بننے سے ختم ہوتا ہے،اگر اربوں روپے کے غبن کے بعد انجام صرف “برطرفی” ہو، تو یہ سزا کم اور ایک خاموش معاہدہ زیادہ لگتا ہے،جیسے ریاست کہہ رہی ہو
“جو کمانا تھا کما لیا، اب آرام کرو۔”
یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر ایسے محکموں میں نگرانی کا نظام کہاں تھا؟ اگر ایک درمیانے درجے کا افسر اتنی مالی طاقت پیدا کر لیتا ہے کہ کئی نسلیں بیٹھ کر کھا سکیں، تو پھر اوپر بیٹھے ہوئے نظام کی ذمہ داری کہاں جاتی ہے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ اربوں کی گندم غائب ہو اور کسی کو برسوں خبر نہ ہو؟ یا خبر سب کو ہوتی ہے مگر خاموشی اس ملک کی سب سے محفوظ سرکاری پالیسی بن چکی ہے؟
سندھ میں گندم اسکینڈلز اور محکمہ خوراک کی بدعنوانیوں کی خبریں نئی نہیں۔ برسوں سے کبھی گوداموں سے گندم غائب ہوتی ہے، کبھی اسٹاک میں کمی نکلتی ہے، کبھی افسران معطل ہوتے ہیں اور کبھی برطرف۔ مگر عوام آج بھی یہ نہیں جانتے کہ کتنے لوگوں کو واقعی جیل ہوئی، کتنی رقوم واپس آئیں اور کتنے لوگ نظام کے اندر بیٹھے آج بھی محفوظ ہیں
اور شاید سب سے تلخ سوال یہی ہے
اگر اربوں کی کرپشن کے بعد انجام صرف “نوکری سے نکالا جانا” ہے، تو پھر اس ملک میں ایماندار رہنے کی ترغیب آخر بچتی کس کے لیے ہے

مزید پڑھیں