Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبھارتدہلی میں ٹرانسپورٹ جام: تین روزہ ہڑتال سے نظامِ زندگی متاثر، ڈرائیور...

ٹرینڈنگ

دہلی میں ٹرانسپورٹ جام: تین روزہ ہڑتال سے نظامِ زندگی متاثر، ڈرائیور یونینز کا کرایوں میں اضافے کا مطالب

دہلی میں ٹرانسپورٹ جام: تین روزہ ہڑتال سے نظامِ زندگی متاثر، ڈرائیور یونینز کا کرایوں میں اضافے کا مطالبہ۔ دہلی میں ٹرانسپورٹ کی ہڑتال کے آغاز کے ساتھ ہی بھارتی دارالحکومت اور اس کے گرد و نواح میں ٹرانسپورٹ کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہو گیا۔ ٹیکسی، کمرشل گاڑیوں اور مختلف ٹرانسپورٹ یونینز نے جمعرات سے تین روزہ ہڑتال شروع کر دی، جو 23 مئی تک جاری رہے گی۔ یہ احتجاج دہلی حکومت کی جانب سے کمرشل گاڑیوں پر “ماحولیاتی معاوضہ ٹیکس” میں اضافے کے خلاف کیا جا رہا ہے۔ یونینز کا مؤقف ہے کہ پہلے ہی مہنگائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور سخت حکومتی ضوابط نے ڈرائیوروں کی کمر توڑ دی ہے، اور اب نئے ٹیکس نے ان کے لیے روزگار جاری رکھنا مزید مشکل بنا دیا ہے۔ یونین کی جانب سے جاری بیان میں الزام عائد کیا گیا کہ ایئر کوالٹی مینجمنٹ کمیشن، عدالتیں اور دہلی حکومت ٹرانسپورٹ سیکٹر پر “غیر منصفانہ اور ظالمانہ پالیسیاں” مسلط کر رہی ہیں۔ احتجاج کرنے والے ڈرائیوروں نے کرایوں میں اضافے کا بھی مطالبہ کیا ہے تاکہ بڑھتے اخراجات کا بوجھ کسی حد تک کم ہو سکے۔ ہڑتال کے باعث دہلی اور این سی آر کے مختلف علاقوں میں عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دفاتر جانے والے ملازمین، طلبہ اور روزانہ سفر کرنے والے لاکھوں افراد متبادل ذرائعِ آمدورفت تلاش کرنے پر مجبور ہو گئے۔ تاہم تمام یونینز اس احتجاج کا حصہ نہیں بنیں۔ چھ آٹو رکشہ یونینز نے خود کو اس ہڑتال سے الگ رکھتے ہوئے کہا کہ مکمل بندش سے عام شہریوں کو غیر ضروری مشکلات پیش آئیں گی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تنازع صرف ایک ٹیکس کا معاملہ نہیں بلکہ ماحولیاتی پالیسیوں اور معاشی دباؤ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشمکش کی علامت بنتا جا رہا ہے، جہاں آلودگی کم کرنے کی کوششیں ٹرانسپورٹ سے وابستہ لاکھوں خاندانوں کے معاشی مفادات سے ٹکرا رہی ہیں۔

مزید پڑھیں