محسن نقوی رپورٹر سے سفارت کار تک کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سربراہ کو تہران کی سڑکیں نہیں، تہران کے اعصاب دکھانے لے گئے ہیں
محسن نقوی رپورٹر سے سفارت کار تک کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سربراہ کو تہران کی سڑکیں نہیں، تہران کا اعصاب دکھانے لے گئے ہیں
جنرل مانک شاہ نے شاید جنگ کے میدان میں کہا تھا کہ “اگر کسی آدمی کو موت سے ڈر نہیں لگتا تو یا تو وہ جھوٹ بول رہا ہے یا پھر وہ گورکھا ہے۔”
پاکستانی بیوروکریسی نے اس قول میں ایک نئی ترمیم کر دی ہے:
“اگر کوئی افسر ہر غیر ملکی دورے پر بھی مطمئن بیٹھا ہے تو یا تو وہ بہت بہادر ہے… یا پھر اسے ابھی تک محسن نقوی کی سفارتکاری سمجھ نہیں آئی”
محسن نقوی عجیب آدمی ہیں
وہ تقریر کم کرتے ہیں، مسکراتے زیادہ ہیں، اور بولتے اتنا ہی ہیں جتنا ایک اچھا سفارتکار بولتا ہے۔۔۔ یعنی ضرورت سے کم
پاکستان میں لوگ انہیں وزیر داخلہ سمجھتے ہیں، کچھ لوگ پی سی بی چیئرمین، کچھ انہیں اسٹیبلشمنٹ کا trusted man کہتے ہیں، مگر جو لوگ طاقت کے راہداریوں کو جانتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ محسن نقوی کا اصل ہنر “لوگوں کے درمیان راستہ نکالنا” ہے۔
وہ برسوں سے یہی کرتے آئے ہیں
کہتے ہیں وزیراعلیٰ ہاؤس کے زمانوں میں وہ پہلے سیکشن افسروں سے سفارتکاری کرتے تھے، پھر طاقتور بیوروکریٹس تک پہنچے، پھر معزز جناب پرویز الٰہی تک
رشتے داری اپنی جگہ، مگر پاکستان میں صرف رشتہ کافی نہیں ہوتا، رسائی چاہیے، اور رسائی صرف وہی آدمی بناتا ہے جو ہر کیمپ میں اپنا بندہ چھوڑ آئے۔
یوں چوہدری شجاعت سے لے کر آصف زرداری تک، علیم خان سے بڑے بلڈرز تک۔۔ اعجاز گوہر تک ، پھر میڈیا ۔۔ ہر دروازے کے باہر کہیں نہ کہیں محسن نقوی کی مسکراہٹ پہلے سے موجود ملتی ہے
پھر ایک وقت آیا جب انہوں نے دو ایسے لوگوں کے درمیان بھی سفارتکاری کی جن کے درمیان فاصلے کم کرنا آسان کام نہیں تھا
میاں نواز شریف اور وہ جرنیل جو بعد میں فیلڈ مارشل بنے
یہ وہ موقع تھا جہاں محسن نقوی صرف “رابطہ کار” نہیں رہے، power structure کا حصہ بن گئے
اب یہی شخص ایران میں ہے
دنیا کہتی ہے امریکہ اور ایران کے درمیان پیغام رسانی ہو رہی ہے
پاکستان کہتا ہے علاقائی استحکام کی کوششیں جاری ہیں
اور اسلام آباد پوچھ رہا ہے
“بھائی، مگر سی ڈی اے چیئرمین کو ساتھ کیوں لے گئے ہو؟”
پہلے محمد علی رندھاوا چین گئے تھے
واپس آئے تو کرسی چلی گئی مگر ساتھ ایک نئی “لکرٹیو” پوسٹ آ گئی
اسلام آباد میں تب سے ایک افسانہ چلتا ہے کہ چین میں انہیں بری امام کے تجاوزات پر شنگھائ بنانے کے لیے شنگھائی دکھایا گیا، ساتھ میں دنیا بدلنے کے خواب دکھائے گئے، مگر وہاں چین میں وزیروں اور افسروں کے احتساب کے قصے سن کر ان کے دل میں اچانک سرکاری سادگی پیدا ہوگئی
کہتے ہیں انہوں نے دل ہی دل میں سوچا ہوگا
“بھائی، ترقی اپنی جگہ… مگر زندہ رہنا بھی اچھی چیز ہے۔”
اب نئے چیئرمین سہیل اشرف ایران میں ہیں
ادھر داخلہ کمیٹی کے چیئرمین راجہ خرم نواز شکوہ کر رہے ہیں کہ وزیر داخلہ خود بھی اجلاس میں نہیں آتے اور جن افسروں سے سوال پوچھنے ہوتے ہیں، انہیں بھی ساتھ لے جاتے ہیں۔
لیکن شاید راجہ صاحب محسن نقوی کے school of diplomacy کو نہیں سمجھتے
اچھے سفارتکار اپنے “مشنریز” کو پیچھے نہیں چھوڑتے
وہ انہیں ساتھ رکھتے ہیں۔
انہیں دنیا دکھاتے ہیں۔
انہیں یہ سکھاتے ہیں کہ اقتدار صرف فائلوں سے نہیں چلتا، nerves سے چلتا ہے۔
اور شاید اسی لیے اس بار چین نہیں، ایران لے جایا گیا ہے
کیونکہ چین آپ کو ترقی سکھاتا ہے، مگر ایران آپ کو resilience سکھاتا ہے
وہاں پابندیاں ہیں، دباؤ ہے، دھمکیاں ہیں، مگر ریاست پھر بھی کھڑی ہے
شاید سہیل اشرف کو تہران کی سڑکیں نہیں، تہران کا اعصاب دکھائے جا رہے ہوں
البتہ ایک سوال پھر بھی باقی رہتا ہے۔
ہمارے حکمران دنیا کے صاف ترین شہر دیکھتے ہیں، تصویریں بنواتے ہیں، متاثر ہوتے ہیں، واپسی پر تقریریں بھی کرتے ہیں… مگر اسلام آباد واپس آتے ہی شہر پھر ملبے، تجاوزات، تاروں، دھول اور ٹوٹی ہوئی منصوبہ بندی کے حوالے کیوں ہو جاتا ہے؟
شاید اس لیے کہ ہم نے صفائی کو “نظام” نہیں، “مہم” سمجھ رکھا ہے۔
اور مہمیں تصویروں سے چلتی ہیں، نظام کردار سے
تہران اس لیے صاف نہیں کہ وہاں جھاڑو زیادہ لگتی ہے
تہران اس لیے صاف لگتا ہے کیونکہ وہاں ریاست اب بھی شہر کو اپنا چہرہ سمجھتی ہے
اور ہم نے اپنے شہروں کو صرف پلاٹ، فائل اور ٹینڈر سمجھ لیا ہے
باقی جہاں تک محسن نقوی کا تعلق ہے، ان پر ایک بات بہرحال پوری اترتی ہے
وہ آدمی بولتا کم ہے، مگر پاکستان کی طاقتور کہانیوں کے بیچ ہمیشہ کہیں نہ کہیں موجود ہوتا ہے


