بیوروکریسی کی روایتی سستی کا ایک اور نمونہ، پی ای اے کی نجکاری بھی لٹکادی
قومی ایئرلائن کا انتظام خریدار کنسورشیم کو منتقل نہ ہوسکا، دوبارہ قومی ایئرلائن کا کنٹرول 25 مئی کو خریدار کنسورشیم کو دینا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اب جون کے آخر تک قومی ایئرلائن کا کنٹرول کنسورشیم کو دینے کا منصوبہ ہے۔ کنٹرول کنسورشیم کو نہ دینے کی وجہ مختلف این او سیز کا اجرا نہ ہونا ہے۔ ذرائع کے مطابق این او سی بیوروکریسی کی سست روی کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہے، کنسورشیم نے این او سی ملنے کے بعد 85 ارب روپے نجکاری کمیشن کے پاس جمع کرانے ہیں۔ ترجمان نجکاری کمیشن کا کہنا ہے کہ مقامی اور بیرونی این او سی حاصل کرنے کا کام جاری ہے۔ مجموعی طور پر 40 سے زیادہ این او سی لیے جانے تھے، زیادہ تر این او سی حاصل ہو گئے ہیں۔ ترجمان نے بتایا کہ اگلے چند روز میں تمام این او سی جاری ہوجائیں گے، کنسورشیم نے یقین دہانی کروادی، جیسے ہی این او سی مکمل ہوں گے 83 ارب کی رقم مل جائے گی۔ ترجمان نجکاری کمیشن کا کہنا ہے کہ جون کے آخر تک قومی ایئرلائن کا انتظام خریدار کنسورشیم کو منتقل ہوجائے گا۔


