بھارت میں گائے کی تجارت، بڑی عید، مسلمانوں میں خوف یا سبق دینے کی کوشش ، ہندو تاجروں کا احتجاج
بھارت میں گائے کی تجارت، بڑی عید، مسلمانوں میں خوف یا سبق دینے کی کوشش ، ہندو تاجروں کا احتجاج
دہلی : بھارت جو بیف کی ایکسپورٹ کرنے والے دنیا کے پانچ بڑے ممالک میں شامل ہے وہاں گزشتہ ایک دہائی سے گائے کو لے کر مذہبی سیاست، ریاستی بیانیے اور سماجی رویوں میں جو سختی اور تقسیم پیدا ہوئی ہے وہ اب صرف نظری بحث نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات براہ راست روزمرہ تجارت اور معاشی سرگرمیوں تک پھیلتے جا رہے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے دوران اور اس سے پہلے بھی قومی سطح پر گائے کو مذہبی تقدس کے طور پر پیش کرنے والی تنظیموں کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا جس کے بعد گائے کے ذبیحے اور اس سے جڑی تجارت کو لے کر متعدد ریاستوں میں سخت قوانین اور سماجی دباؤ دیکھنے میں آیا ہے
اسی پس منظر میں مختلف علاقوں سے یہ اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ مغربی بنگال اور حیدرآباد دکن سمیت بعض شہروں میں گائے کے ہندو تاجر اور پالنے والے افراد اس بات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج کررہے ہیں کہ اس سال بڑی عید کے موقع پر مسلمان خریداروں کی طرف سے گائے کی خریداری میں نمایاں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے، بعض تاجروں کے مطابق یہ رجحان محض معاشی فیصلہ نہیں بلکہ ایک ایسے خوف اور غیر یقینی ماحول کا نتیجہ ہے جو گزشتہ برسوں میں پیدا ہوا ہے
بھارت میں گائے کے گرد پیدا ہونے والا سماجی ماحول صرف مذہبی جذبات تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے ایک ایسا سیاسی اور قانونی پس منظر اختیار کر لیا ہے جس میں بعض اوقات معمولی شک یا الزام بھی بڑے تنازع یا تشدد کی شکل اختیار کر لیتا ہے،اسی وجہ سے مسلمان برادری کے ایک حصے میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ ان کی تجارتی سرگرمیاں صرف معاشی نہیں بلکہ سماجی اور سیکیورٹی خدشات سے بھی جڑی ہوئی ہیں
تاجروں کے مطابق ماضی میں عید کے موقع پر گائے کی خرید و فروخت ایک بڑی منڈی کی صورت اختیار کر لیتی تھی مگر اب بعض علاقوں میں یہ سرگرمی محدود ہوتی جا رہی ہے اور خریداروں کی تعداد میں کمی دیکھی جا رہی ہے،ان کے بقول یہ کمی صرف طلب و رسد کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک بدلتے ہوئے ماحول کی علامت ہے جس میں مختلف طبقات محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور ہیں
دوسری طرف یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا یہ تبدیلی واقعی صرف خوف کی وجہ سے ہے یا اس میں معاشی ترجیحات، جانوروں کی قیمتوں میں اضافہ اور متبادل گوشت کی دستیابی جیسے عوامل بھی شامل ہیں۔ تاہم مجموعی طور پر ایک وسیع تر تاثر یہ ضرور موجود ہے کہ گائے کے گرد پیدا ہونے والا مذہبی اور سیاسی بیانیہ اب سماجی رویوں کو بھی متاثر کر رہا ہے
اس پورے منظرنامے میں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ جب کسی معاشرے میں مذہبی علامتیں سیاسی طاقت کے ساتھ جڑ جائیں تو عام شہریوں کے فیصلے بھی براہ راست یا بالواسطہ طور پر متاثر ہونے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض مسلمان خریدار کھلے عام تجارت سے اجتناب کرتے ہیں جبکہ بعض محتاط انداز میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں
یوں بھارت میں گائے کی تجارت کا موجودہ رجحان صرف ایک معاشی خبر نہیں بلکہ ایک بڑے سماجی سوال کی طرف اشارہ ہے کہ کیا مذہبی شناخت، ریاستی پالیسی اور سماجی خوف ایک ساتھ رہ کر آزاد منڈی کے فیصلوں کو متاثر کر رہے ہیں اور اگر ایسا ہے تو اس کے اثرات آنے والے وقت میں مزید گہرے ہو سکتے ہیں


