ایران میں قیادت کی تبدیلی: شخصیات نہیں، نظام فیصلہ کرتا ہے” بیرونی منصوبہ بندی، اندرونی مزاحمت اور سیاسی قبولیت کا سوال
تجزیاتی رپورٹ آفاق فاروقی ایران میں قیادت کی تبدیلی:
شخصیات نہیں، نظام فیصلہ کرتا ہے بیرونی منصوبہ بندی، اندرونی مزاحمت اور سیاسی قبولیت کا سوال ایران کے سیاسی ڈھانچے میں قیادت کا معاملہ محض عوامی مقبولیت یا کسی “سادہ یا معتدل چہرے” کے انتخاب تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک پیچیدہ مذہبی، سیکیورٹی اور ادارہ جاتی نظام کے اندر طے پاتا ہے، جہاں اصل فیصلہ سازی کا وزن مختلف طاقتور اداروں کے درمیان تقسیم ہوتا ہے اسی تناظر میں بین الاقوامی میڈیا نیویارک ٹائمز میں آنے والے ان دعوؤں پر کہ کسی بیرونی قوت نے سابق ایرانی صدر احمدی نژاد جیسے کسی فرد کو ممکنہ عبوری قیادت کے طور پر سوچا ہو، تجزیہ کار اسے زیادہ تر “نظریاتی یا مفروضاتی سیاسی خاکہ” قرار دیتے ہیں، نہ کہ عملی منصوبہ کیا ایسا کردار قابلِ عمل ہو سکتا تھا؟ سیاسی تجزیے کے مطابق کسی بھی سابق ایرانی صدر کے لیے، خواہ وہ مقبول ہوں یا متنازع، صرف “ذاتی سادگی” یا “شناخت” کافی نہیں ہوتی، ایران میں اقتدار کے لیے چند بنیادی شرائط اہم ہیں: * مذہبی و انقلابی اداروں کی قبولیت * سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی رضامندی * سپریم لیڈر کے نظام کے ساتھ ہم آہنگی * اور ریاستی نظریے سے مطابقت ان عوامل کے بغیر کسی بھی فرد کا اوپر آنا یا قائم رہنا عملی طور پر انتہائی مشکل سمجھا جاتا ہے “قبولیت” کا اصل پیمانہ ایرانی سیاسی نظام میں سوال یہ نہیں ہوتا کہ کوئی شخصیت عوامی طور پر “سادہ” یا “مقبول” ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ * کیا وہ نظام کے اندرونی توازن کو قبول کرے گا؟ * کیا وہ موجودہ اسٹرکچر کو چیلنج نہیں کرے گا؟ * اور کیا سیکیورٹی و مذہبی ادارے اس پر اعتماد کرتے ہیں؟ اسی وجہ سے بیرونی طاقتوں کی طرف سے کسی “فرد واحد” پر انحصار کرنے والی حکمتِ عملی اکثر ناکام سمجھی جاتی ہے بیرونی منصوبہ بندی اور زمینی حقیقت بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کے مطابق امریکہ یا کسی بھی بیرونی ریاست کے لیے ایران جیسے ملک میں قیادت “ڈیزائن” کرنا عملی طور پر انتہائی مشکل ہے، کیونکہ * طاقت صرف ایک مرکز میں نہیں * ادارے ایک دوسرے کے ساتھ مقابلے اور توازن میں ہیں * اور نظام بیرونی مداخلت کے خلاف حساس ہے اس تناظر میں یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ ایرانی قیادت کے حوالے سے جتنے بھی “نام” یا “تصورات” زیر بحث آتے ہیں، وہ زیادہ تر سیاسی قیاس آرائی، اسٹریٹجک سوچ یا میڈیا بیانیے کا حصہ ہوتے ہیں، نہ کہ کسی واضح اور قابلِ عمل منصوبے کا ایران جیسے نظام میں فیصلہ کن عنصر “شخصیت” نہیں بلکہ “نظام کی قبولیت” ہے، اور یہی وہ حقیقت ہے جو اکثر بیرونی تجزیوں کو زمینی سیاست سے مختلف کر دیتی ہے


