ایران جنگ کے بعد امریکی معیشت پر نیا دباؤ: پٹرول کی قیمتیں چار سال کی بلند ترین سطح کے قریب، میموریل ڈے سے قبل عوامی پریشانی بڑھ گئی”
ایران جنگ کے بعد امریکی معیشت پر نیا دباؤ: پٹرول کی قیمتیں چار سال کی بلند ترین سطح کے قریب، میموریل ڈے سے قبل عوامی پریشانی بڑھ گئی”
واشنگٹن — امریکہ میں ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے اثرات اب براہِ راست عام شہری کی جیب پر پڑنے لگے ہیں، جہاں ملک بھر میں پٹرول کی قیمتیں گزشتہ تقریباً چار برس کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق میموریل ڈے کے طویل ویک اینڈ سے قبل امریکی ڈرائیورز کو فی گیلن اوسطاً 4.55 ڈالر تک قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے، جو کہ 2022 کے بعد سب سے زیادہ سطح ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ فروری میں ایران کے ساتھ کشیدگی اور بعد ازاں شروع ہونے والے فوجی تنازع کے بعد مسلسل بڑھتا جا رہا ہے، اور اس میں 50 فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
توانائی کے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر آبنائے ہرمز دوبارہ کھلی اور مستحکم نہ ہوئی تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے، اور گرمیوں کے موسم میں پٹرول کی قیمتیں 5 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ یہ وہ سطح ہے جو عام امریکی صارف کے لیے شدید مالی دباؤ کا باعث بن سکتی ہے۔
صورتحال کو مزید پیچیدہ اس لیے بھی قرار دیا جا رہا ہے کہ عالمی منڈی میں ایشیائی اور یورپی ممالک بھی توانائی کی خریداری میں تیزی لا رہے ہیں، جس کے باعث امریکی ریفائنڈ فیول کی برآمدات پر مقابلہ بڑھ گیا ہے۔ اس عالمی طلب کے دباؤ نے اندرونِ ملک سپلائی اور قیمتوں کو مزید متاثر کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بحران صرف علاقائی جنگ کا نتیجہ نہیں بلکہ عالمی توانائی نظام میں پیدا ہونے والی اس عدم استحکام کی علامت ہے جس نے امریکی معیشت کو براہِ راست متاثر کیا ہے۔
میموریل ڈے کے موقع پر جب لاکھوں امریکی سفر کے لیے نکلتے ہیں، اس بار سڑکوں پر خوشی کے بجائے مہنگائی کا دباؤ زیادہ محسوس کیا جا رہا ہے۔ عوامی سطح پر خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آنے والے ہفتوں میں ایندھن کی قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں، جس سے مہنگائی کا ایک نیا دباؤ پورے ملک میں پھیل سکتا ہے۔
یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بین الاقوامی جنگیں اب صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہیں، بلکہ ان کے اثرات براہِ راست عام شہری کی روزمرہ زندگی تک پہنچ رہے ہیں۔


