امریکہ میں ہزاروں افراد اب کینیڈین شہریت حاصل کرنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ کینیڈا کے نئے شہریت قانون
امریکہ میں ہزاروں افراد اب کینیڈین شہریت حاصل کرنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ کینیڈا کے نئے شہریت قانون “بل سی تھری” کے بعد امریکہ میں ہزاروں افراد اب کینیڈین شہریت حاصل کرنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ امیگریشن وکلاء کے مطابق خاص طور پر وہ امریکی شہری، جن کے والدین، دادا دادی یا پردادا کینیڈا سے تعلق رکھتے تھے، اب بڑی تعداد میں کینیڈین شہریت کے بارے میں معلومات حاصل کر رہے ہیں۔ یہ تبدیلی اس وقت سامنے آئی جب کینیڈا نے اپنے شہریت ایکٹ میں اہم ترامیم کیں، جن کے تحت “فرسٹ جنریشن لمٹ” ختم کر دی گئی۔ پہلے قانون کے مطابق اگر کسی شخص کے والدین بھی کینیڈا سے باہر پیدا ہوئے تھے تو اگلی نسل کو خودکار شہریت نہیں ملتی تھی، لیکن بل سی تھری نے اس پابندی کو بڑی حد تک ختم کر دیا۔ امیگریشن ماہرین کے مطابق اس قانون کے بعد لاکھوں امریکی ممکنہ طور پر کینیڈین شہریت کے اہل بن سکتے ہیں، خاص طور پر وہ لوگ جن کے خاندان کی جڑیں کئی نسل پہلے کینیڈا سے جا ملتی ہیں۔ بعض رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اب امریکی شہری اپنے دادا، پردادا یا خاندانی ریکارڈ تلاش کر رہے ہیں تاکہ وہ یہ ثابت کر سکیں کہ ان کے آباؤ اجداد کبھی کینیڈین شہری تھے۔ نیو برنزوک اور دیگر صوبوں میں آرکائیوز اور خاندانی ریکارڈ دفاتر پر درخواستوں کا دباؤ کئی گنا بڑھ گیا ہے۔ حکام کے مطابق لوگوں کی بڑی تعداد پرانے پیدائشی سرٹیفکیٹس، امیگریشن ریکارڈز اور خاندانی دستاویزات حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ شہریت کے دعوے کو ثابت کیا جا سکے۔ امیگریشن وکلاء کا کہنا ہے کہ امریکہ میں سیاسی تقسیم، صحت کے اخراجات، سماجی عدم استحکام اور مستقبل کے خدشات بھی اس رجحان کی ایک بڑی وجہ ہیں۔ کئی امریکی اب کینیڈا کو ایک زیادہ محفوظ، مستحکم اور بہتر سماجی نظام والا ملک سمجھتے ہیں، جہاں ہیلتھ کیئر، تعلیم اور سماجی سہولیات نسبتاً بہتر مانی جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق بل سی تھری دراصل “لاسٹ کینیڈینز” مسئلے کو حل کرنے کے لیے متعارف کروایا گیا تھا۔ اس اصطلاح سے مراد وہ لوگ ہیں جو پرانے قوانین کی وجہ سے کینیڈین شہریت سے محروم رہ گئے تھے، حالانکہ ان کے خاندان کا تعلق کینیڈا سے تھا۔ 2023 میں اونٹاریو سپیریئر کورٹ نے پرانے قانون کو غیر آئینی قرار دیا تھا، جس کے بعد حکومت نے قانون میں تبدیلی کی راہ ہموار کی۔ نئے قانون کے تحت اگر کوئی شخص 15 دسمبر 2025 سے پہلے بیرون ملک پیدا ہوا تھا اور اس کے خاندان میں کینیڈین شہری موجود تھے، تو اب وہ ممکنہ طور پر خودکار طور پر کینیڈین شہری تصور کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ایسے افراد کو اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے “پروف آف سٹیزن شپ” سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہوگا۔ امیگریشن ڈیپارٹمنٹ آئی آر سی سی کے مطابق درخواستوں میں غیر معمولی اضافے کے باعث پراسیسنگ ٹائم بھی بڑھ رہا ہے، اور بعض کیسز میں 9 سے 12 ماہ یا اس سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ قانونی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ کئی لوگوں کے لیے اصل چیلنج شہریت حاصل کرنا نہیں بلکہ کئی نسلوں پر مشتمل خاندانی ریکارڈ اکٹھا کرنا ہوگا۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس قانون سے مستقبل میں کینیڈا کی آبادی، امیگریشن پالیسی اور سماجی خدمات پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، کیونکہ لاکھوں نئے ممکنہ شہری اب کینیڈا سے قانونی تعلق قائم کرنے کی پوزیشن میں آ سکتے ہیں۔ بعض حلقے اسے کینیڈا کے لیے معاشی اور افرادی قوت کا فائدہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ کچھ لوگ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اس سے ہیلتھ کیئر، ہاؤسنگ اور امیگریشن نظام پر مزید دباؤ بڑھ سکتا ہے۔


