Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبریکنگ نیوزامریکہ سے تیسری دنیاؤں کے بدعنوان نظاموں کے خلاف جدوجہد کا تاریخی...

ٹرینڈنگ

امریکہ سے تیسری دنیاؤں کے بدعنوان نظاموں کے خلاف جدوجہد کا تاریخی آغاز

پاکستان پوسٹ یو ایس اے ویب سائٹ کا باقاعدہ آغاز 20 مئی سے

آفاق فاروقی
بانی :پاکستان پوسٹ
دنیا میں جب جمہوریت کے جدید تصورات تشکیل دیے گئے، چاہے وہ پارلیمانی نظام کی صورت میں ہوں یا صدارتی نظام کی شکل میں، ان کے اندر ایک بنیادی فلسفہ رکھا گیا تھا،ایک طرف حکومت یا قائدِ ایوان ہوگا، تو دوسری طرف حزبِ اختلاف ہوگی،حکومت فیصلے کرے گی، پالیسیاں بنائے گی، غلطیاں بھی کرے گی، اور اپوزیشن کا کام ہوگا کہ وہ ان غلطیوں کی نشاندہی کرے، عوامی مفاد کا دفاع کرے، اور اقتدار کو بے لگام ہونے سے روکے
پھر اس نظام کے ساتھ میڈیا کو ایک الگ اور چوتھے ستون کے طور پر کھڑا کیا گیا،اس کی بنیادی ذمہ داری یہ طے ہوئی کہ اگر کبھی حکومت اور اپوزیشن دونوں اپنے اصل کردار سے ہٹ جائیں، اگر وہ مفادات کے کسی ایسے مقام پر جا کر مل جائیں جہاں عوام تنہا رہ جائے، تو میڈیا عوام کی نمائندگی کرے، سوال اٹھائے، طاقت کے سامنے کھڑا ہو، اور سچ کو زندہ رکھے
لیکن گزشتہ ایک دہائی میں، خاص طور پر جنوبی ایشیا میں، میں نے ایک عجیب اور خطرناک تبدیلی کو بہت شدت سے محسوس کیا ہے،پاکستان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان وہ لکیر مسلسل دھندلی ہوتی گئی جسے جمہوریت کی روح سمجھا جاتا تھا،جو جماعتیں اپوزیشن کے طور پر سامنے آئیں، ان کے اندر بھی ایسے عناصر موجود رہے جن کے بارے میں عوام پہلے ہی جانتے تھے کہ وہ مکمل طور پر آزاد نہیں، سمجھوتوں کا حصہ ہیں، طاقت کے مراکز کے قریب ہیں،دوسری طرف میڈیا کا ایک بڑا حصہ بھی رفتہ رفتہ طاقت، سرمایہ، اشتہارات، ریاستی دباؤ اور سیاسی مفادات کے ساتھ کھڑا ہوتا چلا گیا
ہندوستان میں منظر مختلف ضرور ہے مگر نتیجہ تقریباً وہی ہے،وہاں اپوزیشن داخلی تقسیم، علاقائی سیاست اور باہمی مفادات میں کمزور ہوئی، جبکہ ایک طاقتور سیاسی بیانیے نے میڈیا کے بڑے حصے کو اپنے گرد مجتمع کر لیا
میں یہ نہیں کہتا کہ یورپ اور امریکہ میں میڈیا مکمل طور پر آزاد یا مثالی ہے،سرمایہ، کارپوریٹ طاقت، ریاستی دباؤ اور سیاسی مالی مفادات یہاں بھی موجود ہیں،مگر اس کے باوجود یہاں آج بھی ایک بڑی سطح پر ایسے ادارے، صحافی، دانشور اور پلیٹ فارمز موجود ہیں جو عوامی مفاد کی نمائندگی کرتے ہیں، طاقت سے سوال کرتے ہیں، اور ریاست و سرمایہ کے درمیان مکمل طور پر ضم نہیں ہوئے
میرا احساس یہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں اگر مستقبل میں کوئی حقیقی آزاد، نظریاتی اور عوامی میڈیا ابھرے گا، تو ممکن ہے اس کی بنیاد اوورسیز کمیونٹی میں رکھی جائے۔ شاید یورپ، امریکہ اور کینیڈا میں بیٹھے ہوئے وہ لوگ، جو نسبتاً آزاد فضا میں سوچ سکتے ہیں، اس خلا کو پُر کرنے کی کوشش کریں
میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ وہ شخص میں ہوں گا،میرے وسائل محدود ہیں، عمر اپنی حقیقت رکھتی ہے، اور دنیا میں مجھ سے کہیں زیادہ قابل، ذہین اور طاقتور لوگ موجود ہیں،بقول ساحر کے کل اور آئیں گے مجھ سے بہتر کہنے والے، تم سے بہتر سننے والے ، لیکن انسان اپنی بساط کے مطابق اپنا حصہ ضرور ڈالتا ہے اور ڈالنا بھی چاہیئے
میں نے اپنی زندگی صحافت کو دی ، پاکستان پوسٹ” کے نام سے اخبار نکالا، اور شمالی امریکہ سے وابستہ پاکستانی کمیونٹی میں بہت سے لوگ میرے کردار، میری کمزوریوں، اور میرے نظریاتی مزاج ، اسکی استقامت سے واقف ہیں,میں ہمیشہ یہ سمجھتا رہا ہوں کہ صحافت کوئی فوق البشر پیشہ نہیں،صحافی بنیادی طور پر ایک ورکر ہی ہوتا ہے،جیسے ایک کسان کا اپنا کردار ہے، ایک مزدور کا اپنا، ایک ڈاکٹر، مکینک، انجینئر اور دکاندار کا اپنا کردار ہے، ویسے ہی صحافی بھی سماج کا ایک کارکن ہی ہوتا ہے،اس کا کام سوال اٹھانا، مشاہدہ کرنا، لکھنا، ریکارڈ محفوظ کرنا، اور اپنے عہد کی گواہی دینا ہے
میں انسانی تاریخ کو دیکھتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے،ہزاروں مذاہب آئے، فلسفے آئے، ریاستی نظام بنے، اخلاقیات مرتب ہوئیں، انقلاب آئے، سلطنتیں اٹھیں اور گریں، مگر انسان کی وحشت، لالچ، طاقت کی خواہش اور ظلم مکمل طور پر ختم نہ ہو سکے،بعض اوقات آج کا انسان بھی پتھر کے دور کے انسان جیسا محسوس ہوتا ہے، صرف اس کے ہاتھ میں اب پتھر کی جگہ ٹیکنالوجی آ گئی ہے
لیکن اس سب کے باوجود، تبدیلی ایک مستقل حقیقت ہے،شاید یہی کائنات کا سب سے بڑا قانون ہے کہ کچھ بھی ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا،آج اگر دنیا نامکمل ہے تو کل کچھ بہتر بھی تو ہو سکتی ہے، چاہے اس میں مزید ہزار سال لگ جائیں
اسی یقین کے ساتھ میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتا ہوں،
میں کارل مارکس کو انسانی تاریخ کے عظیم ترین مفکرین میں شمار کرتا ہوں،اس لیے نہیں کہ ان کا ہر نظریہ حرفِ آخر تھا، بلکہ اس لیے کہ انہوں نے انسان، محنت، سرمایہ، طاقت اور استحصال کے تعلق کو جس شدت سے سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی، وہ غیر معمولی تھی،ان کی زندگی قربانی، جلاوطنی، غربت اور مسلسل جدوجہد سے بھری ہوئی تھی،ان کے بچے بھوک اور بیماری میں مر گئے، انہیں پناہ کے لیے شہر شہر بھٹکنا پڑا، اور قبر کے لیے دو گز زمین بھی مشکل سے ہی جڑی،
میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ آج یورپ اور امریکہ میں جو ویلفیئر اسٹیٹ، مزدور حقوق، میڈیکیئر، میڈیکیڈ، فوڈ اسٹیمپس، مزدور یونینز اور انسانی حقوق کا تصور موجود ہے، وہ محض سرمایہ دارانہ نظام کی مہربانی نہیں،اس کے پیچھے صدیوں کی مزدور تحریکیں، سوشلسٹ، سوشل ڈیموکریٹ اور کمیونسٹ نظریات، اور ایسے لوگوں کی جدوجہد شامل ہے جنہوں نے طاقتور نظاموں کے سامنے کھڑے ہونے کی قیمت ادا کی
لیکن میں یہ بھی نہیں مانتا کہ دنیا کو صرف ایک ہی نظریے میں قید کیا جا سکتا ہے،سرمایہ بھی ایک حقیقت ہے یہ کہنا کے مشین محض مردہ دھات ہے ، غلط سمجھتا ہوں ، اس کے پیچھے کسی کا سرمایہ، خطرہ، محنت اور منصوبہ بندی بھی شامل ہوتی ہے،اسی لیے دنیا آج تک کسی ایک مکمل نظام پر متفق نہیں ہو سکی
ہیگل کہتا تھا کہ دنیا کو خیالات آگے بڑھاتے ہیں، جبکہ مارکس کہتا تھا کہ خیالات زمینی حقائق، تجربات اور مادی حالات سے جنم لیتے ہیں،میرے نزدیک یہ بحث آج بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی،انسان ابھی بھی تلاش میں ہے
شاید مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے ابھی تک دنیا کو انسان کے بنیادی مسئلے ،روٹی، عزت، تحفظ
اور انصاف کے گرد متحد کرنے کی سنجیدہ کوشش ہی نہیں کی،دنیا کا امیر ترین شخص بھی آخرکار اتنا ہی کھاتا ہے جتنا ایک عام انسان،بعض اوقات وہ زیادہ بیمار، زیادہ تنہا اور زیادہ خوف زدہ ہوتا ہے،مگر غریب دنیا، خاص طور پر پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش اور تیسری دنیا کے دوسرے ممالک میں، مسئلہ صرف غربت نہیں بلکہ شعور کی کمی، کمزور ادارے، اور ایسی اشرافیہ ہے جو ریاست، سیاست، معیشت اور وسائل کو اپنی جاگیر سمجھتی ہے، اور پھر مسلمان ممالک ان میں جہاں بھی کہیں منظم فوج ہے وہ سمجھتی ہے حکومت ریاست ان کے زور پر کھڑی ہے تو کیوں ناں ہم ہی اسے چلائیں اور اس سوچ نے جو نتائج دیئے وہ ڈھکے چھپے نہیں ،
تیسری دنیا دراصل وہ خطہ ہے جہاں نظام کمزور اور اشرافیہ طاقتور ہوتی ہے،جہاں عوام کو شعور سے زیادہ نعروں پر چلایا جاتا ہے،جہاں غریب، اشرافیہ سے نفرت بھی کرتا ہے اور اسی اشرافیہ جیسا بننے کا خواب بھی دیکھتا ہے،ہم سب امیر بننا چاہتے ہیں، لیکن ہم امیروں کے خلاف بھی کھڑے ہوتے ہیں، یہ انسانی سماج کا شاید سب سے بڑا تضاد ہے
کارل مارکس نے کہا تھا: “دنیا کے مزدورو، ایک ہو جاؤ”
مگر مزدور کبھی واقعی ایک نہ ہو سکے،غریب آدمی اکثر اس نظام سے لڑنے کے بجائے اسی نظام کا حصہ بننے کی خواہش میں لگ جاتا ہے،یہی وجہ ہے کہ دنیا کے تمام نظریات، چاہے وہ سرمایہ داری ہوں، سوشلزم، کمیونزم یا جمہوریت ،سب ابھی بھی نامکمل، قابلِ اصلاح اور ایڈریس ایبل ہیں،بتایا جاتا ہے دنیا کو انسانی آبادی کا ایک فیصد طبقہ چلاتا ہے چار فیصد انکی کٹھ پتلی ہیں پچانوے فیصد مکمل لاعلم ، صرف پانچ فیصد کو معلوم ہے دنیا میں کیا ہورہا ہے اور ہم سب کو خود سے سوال کرنا چاہیے ہم پچانوے فیصد میں شامل ہیں یا پانچ فیصد میں
“پاکستان پوسٹ” کی ویب سائیٹ اسی فکری پس منظر کے ساتھ ایک نئی کوشش ہوگی
یہ صرف ایک نیوز ویب سائٹ نہیں ہوگی،بلکہ پوراایک پلیٹ فارم ہوگا جہاں ہم پاکستان، جنوبی ایشیا، اوورسیز کمیونٹی، عالمی سیاست، ادب، سماج، معیشت، انسانی حقوق، جمہوریت، اور تہذیبی سوالات پر گفتگو کرنے کی کوشش کریں گے
یہاں کمیونٹی کی تقریبات بھی ہوں گی، ان کی خبریں بھی، ان کے مسائل بھی، ان کی کامیابیاں بھی،یہاں ادب کے لیے ایک بڑا اور سنجیدہ سیکشن ہوگا، جسے اردو ادب کے نمایاں اور معتبر لوگ آگے بڑھائیں گے،یہاں پاکستان کے لیے الگ سیکشن ہوگا، کینیڈا، امریکہ اور ویسٹرن یورپ کے لیے الگ حصے ہوں گے،پاک،انڈیا تعلقات، پاک،چین تعلقات، پاک امریکہ تعلقات، مڈل ایسٹ ، عالمی طاقتوں کی سیاست، اوورسیز کمیونٹی کے مسائل، نئی نسل کی شناخت، اور بدلتی ہوئی دنیا ،یہ سب ہمارے موضوعات ہوں گے
ہم شاید دنیا تبدیل نہ کر سکیں
شاید ہم بہت چھوٹے لوگ ہوں
شاید ہماری آواز کمزور ہو
لیکن تاریخ ہمیشہ بڑے محلات سے نہیں، چھوٹے کمروں، مضمحل نڈھال لکھنے والوں، بے نام کارکنوں، اور خواب دیکھنے والوں سے بھی بنتی ہے
“پاکستان پوسٹ یو ایس اے ڈاٹ ک Pakistanpostusa.com اسی خواب، اسی بے چینی، اور اسی امید کا نام ہے، کوشش ہوگی اپنی محنت سے ثابت بھی کرسکیں

مزید پڑھیں